site
stats
خواتین

خواتین میں ظاہر ہونے والی دل کے دورے کی علامات

دنیا بھر میں دل کا دورہ قبل از موت کا باعث بننے والی ایک عام وجہ ہے اور اس مرض میں تشویشناک حد تک اضافہ ہوگیا ہے۔

دل کا دورہ پڑنے سے قبل ہمارا جسم ہمیں کچھ مخصوص سگنلز بھیجتا ہے جو دل کے دورے کی علامت ہوتے ہیں۔ اگر ان علامات پر توجہ دی جائے تو دل کے دورے کو جان لیوا ہونے سے بچایا جاسکتا ہے۔

گو کہ دل کے دورے کی یہ علامات مرد اور خواتین میں یکساں ہوتی ہیں تاہم خواتین میں کچھ علیحدہ علامات بھی ظاہر ہوسکتی ہیں جن پر توجہ دینا ضروری ہے۔

پشت، گردن، جبڑے اور بازوؤں میں درد

دل کا دورہ پڑنے سے قبل عموماً سینے پر دباؤ اور تکلیف کا احساس ہوتا ہے تاہم خواتین کو یہ تکلیف جبڑے، بازووں اور گردن میں بھی محسوس ہوسکتی ہے۔

یہ درد ایک لہر کی صورت میں اچانک ظاہر ہوتا ہے اور بعض اوقات یہ اتنا شدید ہوتا ہے کہ سوتے میں آنکھ کھل سکتی ہے۔ اس کا احساس ہوتے ہی فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کریں۔

معدے میں تکلیف

خواتین میں دل کے دورے کی ایک علامت معدے سے متعلق امراض جیسے سینے کی جلن اور درد ہونا بھی ہے۔ ایسی صورتحال میں پیٹ میں ناقابل برداشت درد بھی محسوس ہوتا ہے۔

ٹھنڈے پسینے

پریشانی اورذہنی دباؤ کی صورت میں ٹھنڈے پسینے آنا ایک عام بات ہے، تاہم اگر کوئی خاتون زندگی میں پہلی بار اس کیفیت کو محسوس کر رہی ہیں تو یہ دل کے دورے کی علامت ہے اور ایسی صورت میں فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کرنا ضروری ہے۔

سانس کے مسائل

امراض قلب کی ایک اور اہم علامت سانس لینے میں تکلیف اور سانس کی آمد و رفت میں بے قاعدگی بھی ہے۔

دل کے دورے کا شکار ہونے والی خواتین کے مطابق دورے سے قبل اگر وہ بالکل ساکت بیٹھی ہوں تب بھی ان کی سانس اس قدر پھول جاتی ہے جیسے انہوں نے بھاگ کر کوئی طویل فاصلہ طے کیا ہو۔

شدید تھکن

بہت زیادہ آرام کرنے کے باوجود اگر کسی خاتون کو بے تحاشہ تھکاوٹ محسوس ہورہی ہے اور وہ اپنے معمول کے کام بھی سرانجام نہیں دے پارہیں تو یہ الارمنگ صورتحال ہے جس کا فوری تدارک ضروری ہے۔

سینے پر دباؤ

دل کے دورے کی صورت میں ہر جنس کے افراد سینے میں درد اور دباؤ محسوس کرتے ہیں۔ خواتین میں یہ تکلیف دل کی طرف صرف بائیں جانب نہیں ہوتا بلکہ پورے سینے میں محسوس ہوسکتا ہے۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top