دماغ کی رگ پھٹنا جسے انگریزی میں Brain Hemorrhage (برین ہیمرج) کہتے ہیں، یہ ایک ایسا خاموش حملہ ہے جس کی علامات ظاہر ہوتے ہی ابتدائی اقدامات کرلیے جائیں تو مریض کی جان کافی حد تک بچائی جاسکتی ہے۔
دماغ کی خون کی نالی میں پیدا ہونے والے غبارے جیسے ابھار کو طبی اصطلاح میں برین اینیوریزم کہا جاتا ہے۔ یہ ایسی خطرناک کیفیت ہے جو اکثر خاموشی سے بڑھتی رہتی ہے اور زیادہ تر صورتوں میں اس وقت سامنے آتی ہے جب خون کی نالی پھٹ جائے۔
ماہرین کے مطابق جب دماغ کی کسی شریان کی دیوار کمزور ہو جائے تو وہاں خون جمع ہو کر اسے غبارے کی طرح پھلا دیتا ہے۔ اگر یہ ابھار پھٹ جائے تو دماغ میں خون رسنے لگتا ہے جسے ہیموریجک اسٹروک کہا جاتا ہے، اور یہ صورت حال جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے۔
نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف نیورولوجیکل ڈس آرڈرز اینڈ اسٹروک کے مطابق دماغی اینیوریزم کی علامات عموماً اس وقت ظاہر ہوتی ہیں جب یہ پھٹ چکا ہو، اسی لیے اس کی ابتدائی علامات کو پہچاننا نہایت اہم ہے۔
دماغی رگ پھٹنے یا برین ہیمرج کی ممکنہ وجوہات میں بلند فشارِ خون، سگریٹ نوشی، خاندانی تاریخ، سر پر چوٹ، خون کی شریانوں کی پیدائشی کمزوری سمیت ابتدائی اور انتباہی علامات شامل ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ برین ہیمرج سے متعلق درج ذیل علامات کو ہرگز معمولی نہ سمجھیں، اچانک اور شدید سر درد، ایسا سر درد جو زندگی کا بدترین درد محسوس ہو۔
متلی اور الٹی، خاص طور پر شدید سر درد کے ساتھ، گردن میں اکڑن یا درد، روشنی سے حساسیت، اچانک مرگی کا دورہ پڑنا، پلکوں کا جھک جانا یا چہرے کے کسی ایک حصے میں کمزوری، اچانک بے ہوشی، بولنے یا سمجھنے میں دشواری، چکر آنا یا چلنے میں توازن کا مسئلہ، آنکھ کے پیچھے درد، بینائی دھندلا جانا یا دوہرا نظر آنا یا شخصیت یا رویے میں اچانک تبدیلی محسوس کرنا۔
یہ علامات اس بات کی نشاندہی کر سکتی ہیں کہ دماغ کی خون کی نالی پر دباؤ بڑھ رہا ہے یا وہ پھٹ چکی ہے۔
اگر کسی شخص کو اچانک شدید سر درد کے ساتھ اعصابی علامات ظاہر ہوں تو تاخیر نہ کریں۔ فوری طور پر ایمرجنسی سروس سے رابطہ کریں یا قریبی اسپتال پہنچیں۔
جدید تشخیصی طریقے جیسے سی ٹی اسکین، ایم آر آئی اور انجیوگرافی کے ذریعے اینیوریزم کی بروقت تشخیص ممکن ہے اور بروقت علاج زندگی بچاسکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ دماغی صحت سے متعلق کسی بھی غیر معمولی علامت کو سنجیدگی سے لیں، خاص طور پر اگر وہ اچانک ظاہر ہو بروقت طبی امداد ہی سب سے مؤثر بچاؤ ہے۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


