The news is by your side.

Advertisement

شام نے دوبارہ کیمیائی حملہ کیا، توامریکا پھر میزائل داغے گا‘ڈونلڈ ٹرمپ

واشنگٹن : امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر شامی حکومت کو خبردار کیا ہے کہ اگر صدر بشار الااسد اور اتحادیوں نے دوبارہ شامی شہریوں پر کیمیائی بم گرائے ’تو امریکا اور اتحادی دوبارہ حملہ کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہے‘۔

تفصیلات کے مطابق ٹرمپ کی جانب سے یہ دھمکی امریکا اور اتحادیوں فرانس اور برطانیہ کی جانب سے شام کے شہر ڈوما پر گذشتہ ہفتے کیمیائی حملوں کے جواب میں گذشتہ روز مشترکہ فوجی کارروائی کے بعد سامنے آئی ہے۔

گذشتہ سات برس سے شام میں جاری خانہ جنگی کے جواب میں شامی حکومت کے خلاف امریکا اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے کی گئی موجودہ فوجی کارروائی سب سے زیادہ بڑا حملہ تھا۔ جس میں شام پر 107 میزائل داغے گئے۔

دوسری جانب شامی حکومت اور اتحادی مسلسل ڈوما میں کیمیائی حملوں کی تردید اور مذمت کرتی آرہی ہے۔

واضح رہے کہ شام کے اہم اتحادی روس کی جانب سے امریکا اور اتحادیوں کے حملے کے بعد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس طلب کیا گیا تھا، جس میں روس نے حملے کی مذمت کرتے ہوئے فوجی کارروائی کے خلاف قرارداد بھی پیش کی تھی، جو مسترد کردی گئی۔

روس کی جانب سے پیش کردہ قرارداد کے مسترد ہونے کے بعد امریکا، برطانیہ اور فرانس نے اجلاس میں قرارداد پیش کی، جس میں متاثرہ شہر دوما پر مبینہ کیمیائی حملے کی آزادنہ تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ روس اقوام متحدہ میں اس سے قبل شام کے خلاف پیش کی گئی متعدد قرار دادوں کو ویٹو کرچکا ہے۔

برطانوی وزیر اعظم تھریسا مے نے روس پر الزام عائد کیا ہے کہ روسی حکام کی جانب سے کئی بار قرار داد مسترد کرنے کی وجہ سے شام پر میزائل داغنے پڑے ’معصوم شہریوں کی جان بچانے کے لیے اس کے سوا کوئی اور راستہ نہیں تھا‘۔

واضح رہے کہ تنظیم برائے ممانعت کیمیائی ہتھیار (او پی سی ڈبلیو) کے تفتیش کار پہلے سے شام میں کیمیائی حملوں کی تحقیقات کے لیے موجود ہیں اور اس ہفتے تفتیش کاروں کا شامی شہر دوما کا دورہ بھی متوقع ہے۔

البتہ تنظیم کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کا عمومی طور کسی کو ذمہ دار نہیں ٹھرائے گی، سوال کیا جارہا ہے کہ پھر برطانیہ، امریکا اور فرانس نے دیکھ کر شام پر حملہ کیا تھا۔


جب تک شام کی موجودہ قیادت ہےحملےرکنےکی کوئی ضمانت نہیں‘ نیٹو


شام حملے کے تینوں اتحادیوں نے نئے مسودے میں کہا ہے کہ ’تنظیم برائے ممانعت کیمیائی ہتھیار‘ تیس روز کے اندر کیمیائی حملوں سے متعلق اپنی رپورٹ سلامتی کونسل میں جمع کروائے۔

واضح رہے کہ شام اور اتحادیوں کی جانب سے دوما پرمبینہ کیمیائی حملے کے جواب میں امریکا نے برطانیہ اور فرانس کے اشتراک کے ساتھ شام کی کیمیائی تنصیبات پر میزائل حملے کیے۔

اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل نے روس کی شام سے متعلق قرارداد مسترد کردی ہے، یہ ہنگامی اجلاس شام پر امریکا اور اس کے اتحادیوں کے حملے کے بعد روس کے مطالبے پر بلایا گیا تھا۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں‘ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں