حلب (17 جنوری 2026): شام کی فوج نے مشرقی حلب کے قصبوں کا کنٹرول سنبھال لیا، سیرین ڈیموکریٹک فورسز (ایس ڈی ایف) کے سیکڑوں اہلکاروں نے ہتھیار ڈال دیے۔
شامی فوج نے ہفتے کے روز کہا ہے کہ اس کی فورسز نے دیر حافر، مسکانہ اور مشرقی حلب کی گورنری کے درجنوں دیگر قصبوں پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے، جب کہ شامی ڈیموکریٹک فورسز وہاں سے واپس ہٹ رہی ہیں۔
مسکانہ کے قریب جھڑپیں بھڑک اٹھنے کے بعد دونوں فریق ایک دوسرے پر الزامات عائد کر رہے ہیں، اور شامی فوج کا کہنا ہے کہ اس کے دو فوجی مارے گئے جب کہ دیگر زخمی ہوئے۔ شام کی فوج نے شہریوں سے کہا ہے کہ وہ دیر حافر میں بارودی سرنگیں اور جنگی باقیات صاف کرنے کا کام کر رہی ہے اس لیے وہ قصبے میں داخل نہ ہوں۔
غزہ بورڈ آف پیس میں 4 اور 8 ارب ڈالر دولت رکھنے والی 2 بڑی کاروباری شخصیات کون ہیں؟
شام کے صدر احمد الشرع نے ایک فرمان جاری کیا ہے جس کے تحت کردش زبان کو باضابطہ طور پر ’’قومی زبان‘‘ تسلیم کر لیا گیا ہے اور تمام شامی کردوں کی شہریت بحال کر دی گئی ہے۔
شامی فوج نے یہ تاکید بھی کی ہے کہ ایس ڈی ایف کے اہل کاروں کو ان کے انخلا کے دوران نشانہ نہیں بنایا جائے گا۔ یاد رہے کہ ایس ڈی ایف کے کمانڈر مظلوم عبدی نے کل بین الاقوامی ثالثیوں کے بعد مشرقی حلب سے انخلا پر آمادگی ظاہر کی تھی۔
گزشتہ ہفتے حلب میں فوج اور ایس ڈی ایف کے درمیان سخت جھڑپیں ہوئیں۔ ان لڑائیوں میں کئی لوگ مارے گئے اور ہزاروں بے گھر ہوئے۔ بعد میں ایک معاہدہ ہوا، جس کے تحت کرد فورسز نے شیخ مقصود، الاشرفیہ اور بنی زید کے علاقوں سے نکلنے پر اتفاق کیا، اور اس کے بعد جھڑپیں رک گئیں۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


