The news is by your side.

Advertisement

شام میں کیمیائی حملے میں مرنے والوں کی تعداد 70 ہوگئی

دمشق: شام کے شہر ادلب پر مبینہ کیمیائی حملے میں مرنے والوں کی تعداد 70 سے زائد ہوگئی۔ امریکا، برطانیہ اور فرانس نے حملے کا ذمہ دار شامی حکومت کو ٹھہرا دیا۔ اقوام متحدہ نے بھی ہنگامی اجلاس طلب کرلیا۔

تفصیلات کے مطابق ایک روز قبل شام کے شمال مغربی حصے میں واقع باغیوں کے زیر کنٹرول علاقے میں جنگی جہازوں کے ذریعے کیے گئے مبینہ مہلک گیس حملے میں بچوں سمیت متعدد افراد ہلاک ہوئے۔

انسانی حقوق کی تنظیم کے مطابق شام کے صوبے ادلب میں خان شیخون نامی شہر میں مرنے والے افراد کسی مہلک گیس سے متاثر ہوئے۔ مرنے والوں کی تعداد 70 تک جا پہنچی ہے جبکہ دیگر درجنوں افراد تنفس کے مسائل کا شکار ہیں۔

syria-2

تنظیم کے مطابق گیس سے متاثر ہونے والے افراد میں بے ہوشی اور قے کی علامات سامنے آئیں جبکہ کئی افراد کے منہ سے جھاگ نکلتی بھی دکھائی دی۔

یہ واضح نہیں ہوسکا کہ کس عنصر سے شہر پر حملہ کیا گیا جبکہ یہ بھی علم نہیں ہوسکا کہ حملہ کرنے والے طیارے شام کے تھے یا اتحادی روس کے۔ فرانس، برطانیہ اور امریکا نے الزام عائد کیا ہے کہ مبینہ کیمیکل حملہ شامی حکومت نے کروایا۔

حملے کے بعد اسپتال زخمیوں سے بھر گئے جن کے لیے دوائیں کم پڑ گئیں۔ متعدد زخمیوں کی حالت تشویش ناک ہے اور شامی حکام نے ہلاکتوں میں مزدی اضافے کا خدشہ ظاہرکیا ہے۔

اقوام متحدہ کا ہنگامی اجلاس

دوسری جانب اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے ترجمان نے کیمیکل حملے کو عالمی امن کے لیے خطرہ قرار دے دیا۔

مبینہ کیمیکل حملے کے بعد اقوام متحدہ کا ہنگامی اجلاس آج ہو رہا ہے۔ اجلاس میں امریکا، برطانیہ اور فرانس کی جانب سے مذمتی قرارداد پیش کی جائے گی۔

شامی حکومت نے حملے میں ملوث ہونے کی تردید کی ہے۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں