site
stats
عالمی خبریں

شام میں مبینہ کیمیائی حملہ‘ سلامتی کونسل کا اظہارِ تشویش

نیویارک : شام میں مبینہ کیمیائی حملے پراقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس منعقد ہوا۔مبینہ کیمیائی حملے میں جاں بحق ہونے والوں میں زیادہ تعداد بچوں کی ہے

تفصیلات کے مطابق سلامتی کونسل کے اجلاس میں امریکہ‘ فرانس اور برطانیہ نے قراردادیں پیش کی جبکہ روسی وزیرِدفاع کے مطابق باغیوں کے کیمیائی ذخیرے کو نشانہ بنایا گیا تھا جس میں گیس کا اخراج ہوا۔

شام کے صوبے ادلب میں مبینہ کیمیائی حملے پر عالمی طاقتوں نے تشویش کا اظہارکردیا، اقوام متحدہ کا کہناہے کہ شواہد اکٹھے کرکے حقائق کا پتہ چلایا جارہاہے۔

نیو یارک میں اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹر میں پریس کانفرنس کے دوران ترجمان کا کہنا تھا ’’کہ کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال خصوصاً شہریوں پر خطرے کی گھنٹی اورانتہائی پریشان کن ہے۔حملہ امن اور سلامتی پرخطرہ اور بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے۔

بشارالاسد کا ہر صورت ساتھ دیں گے، آپریشن جاری رہے گا، روس


روسی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ ادلب کے علاقے خان شیخون میں شامی حکومتی طیاروں نے باغیوں کے کیمیائی ہتھیاروں کے ڈپو کو نشانہ بنایا تھا،جس کے باعث ڈپو میں موجود کیمیائی ہتھیاروں سے زہریلی گیس کا ا خراج ہوا۔

شامی مبصرین کے مطابق مبینہ کیمیائی ہتھیاروں کے حملے میں ہلاکتوں کی تعداد 72 ہوگئی جس میں بیس بچے اور سترہ خواتین شامل ہیں۔

شام میں جنگ بندی کا معاہدہ، روس نے فوج میں کمی کا اعلان کردیا


خیال رہے شام کافی عرصے سے جنگ کی لپیٹ میں تھا جس کے باعث ہزاروں شامی جاں بحق ہوئے اور متعدد زخمی ہوئے جبکہ حالات کے پیش نظر سینکڑوں افراد گھر چھوڑنے پر بھی مجبور ہوئے۔

واضح رہے شام میں جنگ بندی کے لیے روسی صدر نے گزشتہ برس شامی حکومت اور باغیوں کے درمیان مذاکرات کروائے تھے جس کے بعد روس نے شام میں موجود فوج کی تعداد میں کمی کا بھی اعلان کیا تھا۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top