ہفتہ, اپریل 18, 2026
اشتہار

شام کے کردوں نے ایران کے کردوں کو اہم مشورہ دے دیا

اشتہار

حیرت انگیز

حلب (09 مارچ 2026): شام کے کردوں نے ایران کے کردوں کو تہران کے خلاف امریکا کے ساتھ اتحاد سے خبردار کرنے کی اپیل کی ہے۔

روئٹرز کے مطابق شمال مشرقی شام کے کرد باشندوں نے ایران کے کردوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ ایرانی حکومت کے خلاف لڑنے کے لیے امریکا کے ساتھ اتحاد نہ کریں۔ ان کا کہنا ہے کہ حالیہ مہینوں میں شام میں ہونے والے اپنے تجربے سے یہ واضح ہوتا ہے کہ آخرکار انھیں ’’تنہا چھوڑ دیا جائے گا۔‘‘

شمالی عراق میں قائم ایرانی کرد ملیشیاؤں نے حالیہ دنوں میں امریکا سے اس بات پر مشاورت کی ہے کہ امریکا اور اسرائیل کے ایران پر فضائی حملوں کے دوران کس طرح مغربی ایران میں سیکیورٹی فورسز پر حملے کیے جائیں۔

تاہم شام کے کردوں نے اپنے ایرانی ہم منصبوں کو واشنگٹن کے ساتھ شراکت داری سے باز رہنے کا مشورہ دے دیا ہے۔ شمال مشرقی شام کے کرد شہر قامشلی کے 45 سالہ رہائشی سعد علی نے کہا ’’مجھے امید ہے کہ ایران کے کرد امریکا کے ساتھ اتحاد نہیں کریں گے، کیوں کہ آخرکار وہ انھیں چھوڑ دیں گے۔‘‘

انھوں نے روئٹرز سے بات کرتے ہوئے کہا ’’کل اگر امریکا اور ایرانیوں کے درمیان کوئی معاہدہ ہو گیا تو وہ آپ کو ختم کر دیں گے، ہماری غلطیاں مت دہرائیں۔‘‘

اسرائیل ایران جنگ سے متعلق تمام خبریں یہاں پڑھیں

واضح رہے کہ شام کے کرد جنگجوؤں نے ایک دہائی سے زیادہ عرصہ پہلے امریکا کے ساتھ اتحاد کیا تھا تاکہ دولت اسلامیہ (داعش) کے خلاف لڑ سکیں، اس دوران انھوں نے ان علاقوں میں، جو انھوں نے اس شدت پسند اسلام پسند تنظیم سے چھینے تھے، ایک نیم خودمختار علاقہ قائم کر لیا تھا۔

لیکن جنوری میں شام کی نئی فوج نے، جو صدر احمد الشرع کی قیادت میں ہے، ایک بڑے فوجی آپریشن کے دوران کردوں کے زیرِ کنٹرول بیشتر علاقوں پر قبضہ کر لیا ہے، شام کے کردوں نے امریکا سے اپنی حمایت میں مداخلت کی اپیل کی تھی، مگر وہ خود کو دھوکا خوردہ محسوس کرتے ہیں کیوں کہ واشنگٹن نے مداخلت کی بجائے انھیں الشرع کی فورسز میں ضم ہونے کا مشورہ دیا۔

یہ واقعہ شام کے کردوں کے لیے ایک تلخ تجربہ بن چکا ہے اور وہ کہتے ہیں کہ ایرانی کردوں کو اس سے سبق سیکھنا چاہیے۔ قامشلی کے 26 سالہ شامی کرد امجد کاردو نے کہا ’’میری رائے میں ایران کے کردوں کو مضبوط مؤقف اختیار کرنا چاہیے، انھیں ایرانی سرزمین کے اندر کسی بھی جنگ میں شامل نہیں ہونا چاہیے جب تک امریکا کی طرف سے ایران کے ان کرد علاقوں کے مستقبل کے بارے میں مضبوط اور تحریری ضمانتیں نہ مل جائیں۔‘‘

انھوں نے مزید کہا ’’ہم کردوں نے، خاص طور پر شام میں، امریکا کے ساتھ ایک منفی تجربہ کیا ہے اور ہم نے دیکھا ہے کہ انھوں نے کرد مزاحمتی تحریکوں کو کیسے چھوڑ دیا۔‘‘

دوسری طرف ایک ایرانی کرد ذریعے نے بتایا کہ کرد رہنماؤں کو یہ خدشہ ضرور ہے کہ انھیں بھی شمالی شام کے کرد گروہوں کی طرح دھوکا دیا جا سکتا ہے۔ ذرائع کے مطابق ایرانی کرد رہنماؤں نے امریکا سے کچھ ضمانتیں مانگی ہیں، تاہم ان کی تفصیلات نہیں بتائی گئیں۔

امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو روئٹرز سے گفتگو میں کہا تھا کہ اگر کرد فورسز شمالی عراق سے سرحد پار کر کے ایران میں داخل ہوں تو یہ ’’بہت شان دار‘‘ ہوگا، لیکن انھوں نے اس سوال کا جواب دینے سے انکار کر دیا کہ آیا امریکا انھیں فضائی مدد فراہم کرے گا یا نہیں۔ تاہم ہفتے کے روز انھوں نے بظاہر اپنا مؤقف بدل لیا اور صحافیوں سے کہا کہ وہ نہیں چاہتے کہ کرد جنگجو ایران میں داخل ہوں۔

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں