Syria warشام کے شہرغوطہ میں بمباری، 250سے زائدافراد ہلاک
The news is by your side.

Advertisement

شام کے شہرغوطہ میں بمباری، 250 سے زائد افراد ہلاک

صنعا : شام میں سرکاری ا فواج اورباغیوں کی جنگ شہریوں کے لئے موت کا پیغام بن گئی، 48 گھنٹوں میں شامی فوج کی غوطہ میں بمباری سے جاں بحق افراد کی تعداد 250 ہوگئی، ہلاک اورزخمی ہونے والوں میں بچوں کی بڑی تعداد بھی شامل ہے۔

تفصیلات کے مطابق شام پر ایک بار پھر موت کے سائے منڈلانے لگے۔ سرکاری فورسزکے جنگی طیاروں کی بمباری سے شہری آبادی ملبے کے ڈھیرمیں تبدیل ہوگیا جبکہ لوگ اپنے گھروں میں بھی غیرمحفوظ ہوگئے۔

فورسز کی فضائی کارروائی میں مزید پانچ افراد جان سے گئے جبکہ 200 زائدزخمی ہوئے، جس کے بعد 48 گھنٹوں کے دوران ہلاکتوں کی تعداد 250 ہوگئی۔

بمباری سے زخمی بچوں کی فوٹیجز بھی عالمی ضمیرکوجھنجھوڑنے میں ناکام ہوگئیں، بے گناہ شہریوں کی ہلاکت پرکوئی ایکشن نہیں لیا جارہا۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق سیکڑوں شہری ملبے تلے دبے ہوئے ہیں جس کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے، انسانی حقوق گروپ آبزرویٹری کی جاری کردہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2013 میں اسی علاقے میں مبینہ کیمیائی حملے میں شہریوں کی ہلاکتوں کے بعد یہ اب تک کا دوسرا بڑاحملہ ہے، جس میں سیکڑوں افراد ہلاک ہوئے۔


مزید پڑھیں :  شام میں بچوں کی ہلاکتیں، یونیسیف نے احتجاجاً خالی اعلامیہ جاری کردیا


دوسری جانب اقوام متحدہ کی امدادی ایجنسیوں نے فریقین سے جنگ بندی کرنے کی اپیل کی ہے تاکہ بمباری سے متاثرہ علاقوں میں افراد کوطبی امداد اور دیگر ضروری اشیا فراہم کی جاسکیں۔

گذشتہ روز اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسیف) نے شام میں بمباری کے باعث بچوں کی مسلسل ہلاکتوں پر کہا تھا کہ کسی لغت میں وہ الفاظ نہیں جو اس دکھ کے اظہار کرنے کی طاقت رکھتے ہوں اس لیے احتجاجاً ’’ خالی اعلامیہ ‘‘ جاری کرتے ہیں۔

یونیسیف کے ریجنل ڈائریکٹر برائے مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جنگ کے دوران بچوں کی ہلاکتیں ہمارے مستقبل کا قتل ہیں جس سے دنیا آنے والی نسل کے بہترین ذہنوں سے محروم ہو جائے گی اور ان معصوم جانوں کے ضیاع پر والدین کو تسلی دینے اور انصاف کے حصول کی یقین دہانی کے لیے الفاظ نہیں مل رہے ہیں۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں