شام کے صدر احمد الشرع نے کہا ہے کہ اسرائیل سے خوفزدہ ہیں شام کےحالات خراب کیےجا رہے ہیں۔
نیویارک میں مڈل ایسٹ انسٹی ٹیوٹ میں خطاب کرتے ہوئے احمد الشرع نے کہا کہ اسرائیل فضائی حدود کی خلاف ورزی اور سرحدی دراندازی کر رہا ہے شام کو تقسیم کرنےکی کسی بھی کوشش سے عراق اور ترکیہ متاثر ہوں گے اگر شام کو تقسیم کیا گیا تو خطے میں ہر کسی کو بہت نقصان ہو گا۔
انہوں نے کہا کہ بشارالاسد کا تختہ الٹنے کے بعد اسرائیل نے شام کو مستحکم ہونے سے روکا، اسرائیل نے شام کیساتھ 1974 کے جنگ بندی معاہدے کو پامال کیا اور شامی فوجی اثاثے نشانہ بنائے گئے اسرائیلی فوج نے 20کلو میٹر دراندازی کی، اسرائیل نے ایک ہزار سے زائد فضائی حملے اور 400 زمینی دراندازی کی۔
ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل شام کو تقسیم کر کےکمزور رکھنا چاہتا ہے۔
قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق امریکی ایلچی نے بتایا کہ اسرائیل اور شام ایک ابتدائی ڈی ایسکلیشن سمجھوتے (کشیدگی میں کمی کے معاہدے) کے قریب ہیں جو مستقبل میں ایک سکیورٹی معاہدے کی بنیاد بنے گا۔
اسرائیل شام کے جنوب مشرقی علاقوں میں کئی فضائی حملے کر چکا ہے۔ اس نے گزشتہ سال دسمبر میں سابق صدر بشار الاسد کے اقتدار سے ہٹائے جانے کے بعد سے سرحد کے قریب بار بار کارروائیاں کیں۔
امریکی ایلچی ٹام بیرک کئی مہینوں سے اس معاملے پر کام کر رہے ہیں۔ نیویارک شہر میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میرے خیال میں ہر کوئی اسے نیک نیتی کے ساتھ دیکھ رہا ہے۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


