The news is by your side.

Advertisement

شامی مہاجرین کی جائیدادیں ضبط کی جاسکتی ہیں، بشار الاسد

دمشق: شام کے صدر بشار الاسد نے کہا ہے کہ شام کی جنگ کے دوران ہجرت کرنے والے شامی مہاجرین کی جائیدادیں اور املاک سے محروم ہوسکتے ہیں۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق بشار الاسد کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ شام کی تعمیر نو کے لیے نئے منصوبہ جات جاری کئے جانے کے بعد شامی باشندوں کو اپنی جائیداد اور املاک کے لیے ملکیتی حقوق تیس دنوں کے اندر اندر جمع کرانا ہوں گے۔

خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ اگر اس منصوبے پر عملدرآمد کیا گیا تو جرمنی سمیت دیگر ممالک میں قیام پذیر شامی مہاجرین اپنی املاک اور جائیداد سے محروم ہوجائیں گے، جرمن وزارت خارجہ کی جانب سے بشار الاسد کے اس بیان شدید مذمت کی گئی ہے۔

اقوام متحدہ کے ماہرین کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ منصوبے پر عملدرآمد ہوا تو وہ شامی مہاجرین زیادہ متاثر ہیں جو اپارٹمنٹس، بلڈنگز یا پلاٹوں کے مالک ہیں۔

خیال ظاہر کیا جارہا ہے کہ زیادہ تر شامی مہاجرین اپنی جائیدادوں کے کوائف پیش کرنے میں ناکام رہیں گے کیونکہ ایسے مہاجرین بہت کم ہیں جو جنگ کے دوران اپنی جائیدادوں کے کاغذات ساتھ لاسکے تھے۔

جرمن وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ شامی صدر بشار الاسد کا یہ منصوبہ شامی مہاجرین کو جائیداد سے محروم کرنے کا حربہ ہے، منصوبے کا مقصد شامی مہاجرین پر واپسی کے دروازے بند کرنے کے مترادف ہے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں