The news is by your side.

Advertisement

افسوس! اسرائیل نے مذاکرات کی تمام کوششیں ناکام بنادیں، فلسطینی صدر

نیویارک: فلسطینی صدر محمود عباس نے کہا ہے کہ فلسطین کے حالات اب برداشت سے باہر ہوتے جارہے ہیں، افسوس کہ اسرائیل نے مذاکرات کی تمام کوششیں ناکام بنادی ہیں۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا، صدر محمود عباس کا کہنا تھا کہ فلسطین کا مسئلہ انتہائی سنگین ہوچکا ہے، اس کے حل کے لیے عالمی کثیر الملکی میکینزم کا ہونا ضروری ہے۔

فلسطینی رہنما محمود عباس نے اپنےخطاب میں اس سال کے وسط تک ایک بین الاقوامی کانفرنس بلانے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ فلسطینیوں کی ایک علیحدہ ریاست کے حق کو مشرق وسطیٰ میں قیام امن کے وسیع تر منصوبے کا حصہ بنایا جا سکے۔

عالمی امن اورسلامتی کےلیےمسئلہ فلسطین کا حل ضروری ہے‘ملیحہ لودھی

ان کا کہنا تھا کہ امریکا نے یروشلم کو مذاکرات کی میز سے ہٹانے کا فیصلہ کر لیا ہے،  لیکن ہم اپنے لوگوں کو بین الاقوامی تحفظ فراہم کرنے کےلیے کوشاں ہیں۔

خیال رہے گزشتہ سال دسمبر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرپ نے یہ اعلان کیا تھا کہ وہ یروشلم کو اسرائیل کا دارلحکومت تسلیم کرتے ہیں اور اپنا سفارت خانہ وہاں منتقل کریں گے، جس کے بعد سے ہی فلسیطینی صدر امریکی اقدامات سے خفا ہیں۔

فلسطینی سفیر اظہار یکجہتی کے لیے احتجاجی اجتماعات میں شریک ہوئے، ترجمان دفترخارجہ

بعد ازاں انتہائی غصے کے عالم میں محمود عباس نے امریکی فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ اب امریکا امن عمل میں مصالحت کا کردار ادا نہیں کر پائے گا۔ علاوہ ازیں آخری لمحات پر فلسطین کے دورے پر آئے ہوئے امریکا کے نائب صدر مائیک پینس کے ساتھ ملاقات کو بھی منسوخ کر دیا تھا۔

واضح رہے سنہ 2009 کے بعد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں فلسطینی صدر محمود عباس کا یہ پہلا خطاب ہے۔ فلسطین اس وقت خانہ جنگی کا شکار ہے جہاں اسرائیل کی جانب سے فسلطینی سرزمین پر غیر قانونی تعمیرات اور شہریوں کی بے دخلی کا سلسلہ جاری ہے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں