The news is by your side.

Advertisement

بشارالاسد ایک بار پھر شام کے صدر منتخب

دمشق: بشارالاسد مسلسل چوتھی بار شام کے صدر منتخب ہوگئے ہیں، بشارالاسد کی کامیابی پر عوام نے جشن منایا۔

عرب میڈیا کے مطابق شام میں صدارتی انتخاب کےنتائج کا اعلان کردیا گیا ہے، بشارالاسد95.1فیصد ووٹ لیکر مسلسل چوتھی بارصدر منتخب ہوگئے ہیں، ان کے مد مقابل امیدوار اور حکومت کے باغی اتحاد نیشنل فرنٹ کے سابق سیکرٹری جنرل محمود احمد ماری صرف3.1 فیصد ووٹ حاصل کر سکے جبکہ سوشلسٹ نینسٹ پارٹی کے عبداللہ سلم عبداللہ 1.5 فیصد ووٹوں کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہے۔

عرب میڈیا کے مطابق ووٹنگ کی شرح 78 فیصد رہی، امریکی حمایت یافتہ کردوں کے علاقے ادلب میں الیکشن کا بائیکاٹ کیا گیا جبکہ بشارالاسد کے مخالفین اور مغربی ممالک نے انتخابات میں دھوکہ دہی کاالزام عائد کیا ہے،کیونکہ یہ انتخابات سرکاری کنٹرول والے علاقوں اور کچھ ملکوں میں شام کے سفارتخانوں میں کرائے گئے تھے۔

پچپن سالہ اسد سال دوہزار سے صدر کے عہدے پر فائز ہیں، انہوں نے اپنے والد مرحوم حافظ الاسد کی جگہ یہ عہدہ سنبھالا تھا، جنہوں نے 25 سال سے زیادہ عرصے تک وہاں راج کیا تھا۔

واضح رہے شام میں دس سال سے جاری ٹکراؤ اور لڑائی سے کافی تباہی ہوئی ہے اور کم از کم 3 لاکھ 88 ہزار افراد مارے جاچکے ہیں۔ وہاں کی آدھی آبادی کو اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑا ہے۔ اِن میں تقریباً 60 لاکھ پناہ گزینوں نے دیگر ملکوں میں پناہ لے رکھی ہے۔

شام کے صدارتی کے انتخابات میں بشارالاسد کی چوتھی بار کامیابی کے بعد لوگوں نے جشن منایا، اسد کی فتح کا جشن منانے والے محمد الہماسی نے کہا کہ ‘ہم اس ملک کی مدد کے لئے گولہ بارود کے خانے کھولتے تھے لیکن اب ہم نے صدر بشار حفیظ اسد کی کامیابی میں مدد کے لئے بیلٹ باکس کھولے ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں