کراچی (24 فروری 2026): سابق قومی کرکٹر نے آج انگلینڈ کیخلاف اہم میچ میں پاکستان کی جیت کے لیے بابر اعظم سے اوپن کرانے کا مشورہ دیا ہے۔
پاکستان آج ٹی 20 ورلڈ کپ کے سپر ایٹ مرحلے میں انگلینڈ کے خلاف اپنا اہم میچ کھیل رہا ہے۔ فتح اس کے سیمی فائنل میں پہنچنے کی راہ ہموار کرے گی جب کہ شکست اس کے فائنل فور میں پہنچنے کی منزل کو انتہائی مشکل اور اگر مگر کا شکار کر دے گی۔
اے آر وائی نیوز کے ورلڈ کپ اسپیشل پروگرام ’ہر لمحہ پرجوش‘ میں سابق قومی کرکٹر باسط علی نے مشورہ دیا ہے کہ پاکستان کی جیت کے لیے انگلینڈ کے خلاف بابر اعظم سے اوپن کرائی جائے۔
اس کی توجیح پیش کرتے ہوئے باسط علی نے کہا کہ آج کا میچ ڈو آر ڈائی ہے، اس لیے لکیر کا فقیر بننے کے بجائے سوچ کو تبدیل کرنا ہوگا۔ انگلینڈ ول جیک سے نیا بال کرا رہا ہے اور وہ لیفٹ ہینڈر کو مشکل میں ڈال رہے ہیں۔
سابق ٹیسٹ کرکٹر نے کہا کہ اگر ول جیک کے خلاف لیفٹ ہینڈر صائم ایوب آؤٹ ہو گئے اور صاحبزادہ فرحان بھی شاٹ مارتے ہوئے جلد وکٹ دے بیٹھے تو پاکستان کی بیٹنگ بالکل بیٹھ جائے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ انگلینڈ کی طرح پاکستان کو بھی پلان چینج کرنا ہوگا۔ عادل رشید اور ڈاؤسن کے لیے ہمارے پاس مڈل دو لیفٹ ہینڈر بیٹرز ہونا ضروری ہیں۔ تاہم کوچ کو سمجھ آنی چاہیے یہ بات ورنہ بابر وہی نمبر چار پر بیٹنگ کرے گا۔
باسط علی نے آج کے گیم میں شاہین شاہ آفریدی کو کھلانے کا امکان ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ شاہین کو فہیم اشرف کی جگہ لایا جائے گا۔
سابق وکٹ کیپر کامران اکمل نے ٹیم میں تبدیلی سے متعلق کہا کہ تبدیلی نہیں ہوگی، یہ ٹیم پتھر پر لکیر ہے۔ اس کے علاوہ میرا نہیں خیال کہ ٹاپ تھری بیٹنگ لائن میں کوئی تبدیلی ہو اور اس اہم ترین میچ میں ہونی بھی نہیں چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ ول جیک مکمل بولر نہیں بلکہ آل راؤنڈر ہے۔ اگر ہم اس کو وکٹیں دیں گے یا رنز نہیں کریں تو واضح ہے کہ ہمارے پاس گیم پلان نہیں یا پھر صلاحیتوں کی کمی ہے۔
کامران اکمل نے کہا کہ اس وقت انگلینڈ کے پاس صرف دو بولر ہیں ایک جوفر آرچر اور دوسرا عادل رشید۔ ہماری پلاننگ یہ ہونی چاہیے کہ انہیں وکٹ نہیں دینی۔ باقی ایسے بولرز ہیں کہ ہماری ٹیم با آسانی 170 رنز کر سکتی ہے۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


