کراچی (9 فروری 2026): آئی سی سی بھارت کے خلاف میچ کھیلنے کے لیے پی سی بی کو منانے پاکستان چلا آیا پاک بھارت ٹاکرا ہونے کے کتنے امکانات ہیں۔
آئی سی سی کے بھارتی ایما پر کیے گئے جانبدارانہ اور بنگلہ دیش کو ورلڈ کپ سے باہر کیے جانے کے غیر منصفانہ فیصلے کے بعد پاکستان نے بھارت کے خلاف ورلڈ کپ کے میچ کا بائیکاٹ کا اعلان کیا تو آئی سی سی کے ہاتھوں کے طوطے اڑ گئے جب کہ بھارتی کرکٹ بورڈ سمیت بھارتی براڈ کاسٹرز کی نیندیں حرام ہو گئیں۔
ایسے میں آئی سی سی کا وفد گزشتہ روز چیئرمین پی سی بی کو منانے پاکستان آ گیا۔ تاہم مذاکرات میں محسن نقوی نے کڑی شرائط رکھنے کے ساتھ بھارت کے خلاف میچ کے بائیکاٹ کا فیصلہ واپس لینے کو حکومتی رضامندی سے مشروط کر دیا۔
اس بڑی ڈیولپمنٹ کے بعد میڈیا میں پاک بھارت ٹاکرا ہونے یا نہ ہونے سے متعلق تجزیے اور امکانات پر بات کی جا رہی ہے۔
اے آر وائی نیوز کے پروگرام اسپورٹس روم میں سینئر اسپورٹس رپورٹر شاہد ہاشمی کا کہنا ہے کہ ان مذاکرات کا اونٹ کسی نہ کسی کروٹ بیٹھے گا اور غالب امکانن ہے کہ یہ میچ ہوگا۔ تاہم کیا ہوگا، یہ فیصلہ پیر کو ہو جائے گا۔
سابق ٹیسٹ کرکٹر اور تجزیہ کار باسط علی ننے کہا کہ میں تو پہلے ہی اشاروں میں کہہ چکا ہوں کہ 2 ہزار والا ٹکٹ 5 ہزار میں بکے گا۔ اگر آئی سی سی کے وائس چیئرمین عمران خواجہ نے چیئرمین پی سی بی محسن نقوی کو منا لیا اور انہوں نے وزیراعظم سے میچ ہونے کی درخواست کی تو پاک بھارت ٹاکرا 15 فروری کو ہو جائے گا۔
سابق ٹیسٹ کرکٹر کامران اکمل کا کہنا تھا کہ میچ ہونے کے امکانات ہیں۔ تاہم میچ پاکستان کی شرائط پوری ہونے پر ہی ہوگا۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


