کراچی (16 فروری 2026): ورلڈ کپ سے شرمناک شکست کے بعد پاکستان ٹیم پر تنقید جاری ہے سابق کرکٹر نے کہا ہے کہ قومی ٹیم کو اسلام آباد یونائیٹڈ ٹیم بنا دیا گیا ہے۔
آئی سی سی ٹی 20 ورلڈ کپ میں گزشتہ روز روایتی حریف بھارت سے 61 رنز کی بدترین شکست کے بعد پاکستان ٹیم پر شائقین کرکٹ برہم اور سابق کرکٹرز اور تجزیہ کار تنقید کرتے ہوئے ان خامیوں کی نشاندہی کر رہے ہیں، جس کی وجہ سے ٹیم ہاری۔
اے آر وائی نیوز کے اسپورٹس پروگرام ہر لمحہ پرجوش میں سابق ٹیسٹ کرکٹر باسط علی کا کہنا تھا کہ پاکستان ٹیم کے ہیڈ کوچ مائیک ہیسن اپنی فلاسفی لے آئے اور قومی ٹیم کو اسلام آباد یونائیٹڈ ٹیم بنا دیا ہے۔
پروگرام کے میزبان اور سابق قومی کپتان شعیب ملک کا کہنا تھا کہ جن بولرز کی ذمہ داری ہے کہ میچ میں چار اوور کرائیں، ان سے پورے اوور نہیں کرائے گئے۔ شاہین نے دو جب کہ ابرار سے تین اوور کرائے گئے۔
شعیب ملک نے کہا کہ ان کو سمجھ ہی نہیں کہ کس بیٹر کے سامنے کس بولر کو لانا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ اردگرد جو سات آٹھ بولر کھڑے ہیں، جس پر نظر پڑتی ہے اس کو بولنگ کے لیے بلا لیا جاتا ہے۔ ایسے کیسے جیتا جا سکتا ہے۔
سابق وکٹ کیپر بیٹر کامران اکمل نے کہا کہ جب آپ کے پاس مین ایسے آل راؤنڈرز بولر ہیں جو پورے چار اوور کر لیتے ہیں جیسا کہ صائم ایوب اور محمد نواز تو پھر مزید آل راؤنڈرز رکھنے کے بجائے بیٹرز کو ٹیم میں شامل کریں، کیونکہ پاکستان کی بولنگ لائن کی نسبت بیٹنگ لائن کمزور ہے۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


