واشنگٹن (9 فروری 2026): نیویارک ٹائمز کا کہنا ہے کہ بھارت کی کھیل میں سیاسی مداخلت اور اجارہ داری نے ٹی 20 ورلڈ کپ کو نقصان پہنچایا۔
بھارت اور سری لنکا کی مشترکہ میزبانی میں جاری ٹی 20 ورلڈ کپ آئی سی سی کے بھارت نواز فیصلوں، بنگلہ دیش کو ٹورنامنٹ سے باہر کرنے اور پاکستان کے بھارت کے خلاف میچ کے بائیکاٹ کے اعلان کے باعث اپنے آغاز سے قبل ہی متنازع ہو چکا ہے۔
یہ معاملہ اتنا گھمبیر ہو گیا ہے کہ پاک بھارت ٹاکرے کا بائیکاٹ ختم کرانے کے لیے پاکستان کی منتیں کرنے آئی سی سی کا وفد پاکستان بھی آ گیا۔
اسی معاملے پر امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے ایک مفصل رپورٹ شائع کی ہے، جس میں واضح کہا گیا ہے کہ بھارت کی کھیل میں سیاست اور اجارہ داری نے کرکٹ کے ساتھ ٹی 20 ورلڈ کپ کی ساکھ کو بھی نقصان پہنچایا ہے۔
اخبار لکھتا ہے کہ بنگلہ دیش نے سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر بھارت میں کھیلنے سے انکار کیا تو آئی سی سی نے اس کو ٹورنامنٹ سے باہر کر دیا۔ بنگلہ دیش سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے پاکستان نے 15 فروری کو کولمبو میں بھارت کے خلاف میچ کا بائیکاٹ کر دیا ہے۔ وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف نے اسے ایک "واضح موقف” قرار دیا ہے۔
نیویارک ٹائمز مزید لکھتا ہے کہ پاکستان کے تمام میچز پہلے ہی سری لنکا میں منتقل کیے جا چکے تھے کیونکہ پاکستان اور بھارت کے درمیان ہائبرڈ فارمولے کا ایک معاہدہ طے ہو چکا ہے۔ اب 15 فروری کو پاک بھارت ٹاکرا نہ ہونے سے آئی سی سی کو شدید مالی دھچکا لگنے کا اندیشہ ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاک بھارت میچ سے تقریباً 250 ملین ڈالر کی آمدنی متوقع تھی۔ بھارتی میڈیا رائٹس ہولڈر ‘جیو اسٹار’ پہلے ہی اپنے 3 ارب ڈالر کے معاہدے پر نظر ثانی کی کوشش کر رہا ہے۔
نیو یارک ٹائمز کا کہنا ہے کہ یہ تناؤ حالیہ سیاسی واقعات کا نتیجہ ہے۔ اپریل 2025 میں کشمیر کے معاملے پر بھارت اور پاکستان کے درمیان فوجی جھڑپ ہوئی۔
بنگلہ دیش میں شیخ حسینہ کی حکومت کے خاتمے کے بعد بھارت کے ساتھ تعلقات میں تلخی آئی۔ جب کہ بنگلہ دیشی کرکٹر مستفیض الرحمان کو آئی پی ایل سے باہر کیے جانے پر بنگلہ دیش نے لیگ کی نشریات پر پابندی لگا دی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت کی کرکٹ پر اجارہ داری اور حالیہ بائیکاٹ ٹی 20 ورلڈ کپ کی ساکھ کو متاثر کر رہے ہیں۔
پی سی بی نے اہم ملاقات کا باقاعدہ اعلامیہ جاری نہیں کیا، آج مذاکرات کا دوسرا دور متوقع
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


