چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ محسن نقوی نے کہا ہے کہ آئی سی سی کے جواب کا انتظار ہے اس موقع پر کچھ کہنا مناسب نہیں۔
پی ایس ایل کی فرنچائز ملتان سلطانز کی نیلامی کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے محسن نقوی نے کہا کہ بنگلادیش کا معاملہ اہم ہے ان کا مؤقف ہمیں جانے نہیں دینا تھا، آئی سی سی اوربنگلادیش بورڈ اس وقت اس مرحلے میں ہیں کہ کچھ کہنا مناسب نہیں انتظار کر رہے ہیں آئی سی سی کی طرف سے اطلاع آئی تو ضرور بتائیں گے۔
آئی سی سی حکام کی پاکستان آمد پر ان کا کہنا تھا کہ ہم نے گھر آئے مہمان کی عزت کرنا سیکھا ہے آئی سی سی چل کر ہمارے پاس آیا ہے تو بہت سی چیزیں بھول جاتے ہیں، میں دھمکی سے نہیں ڈرتا اور نہ حکومت ڈرتی ہے ہمارے فیلڈ مارشل کو سب جانتے ہیں اس لئے کسی دھمکی سے کوئی مسئلہ نہیں۔
محسن نقوی نے کہا کہ بہت سے ممالک نے اعلیٰ سطح پر ہم سے رابطہ کیا ہے کچھ دوست ممالک بھی موجود ہیں جنہیں اپنا مؤقف بیان کیا۔
گزشتہ روز چیئرمین پی سی بی محسن نقوی سے ڈپٹی چیئرمین آئی سی سی عمران خواجہ کی اہم ملاقات ہوئی تھی، اس ملاقات کا باقاعدہ اعلامیہ بھی تاحال کرکٹ بورڈ کی جانب سے جاری نہیں ہوا ہے، جو آج متوقع ہے۔
ذرائع کرکٹ بورڈ کا کہنا ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے یہ معاملہ حکومت کے کورٹ میں ڈال دیا ہے، اور اس سلسلے میں چیئرمین پی سی بی محسن نقوی کی آج وزیر اعظم شہباز شریف سے ملاقات کا امکان ہے، اور ڈنر کے بعد رات گئے آئی سی سی کے ساتھ مذاکرات کا دوسرا دور متوقع ہے۔
پی سی بی اور آئی سی سی کی اس ملاقات میں بنگلادیش کرکٹ بورڈ کے صدر امین الاسلام بھی شامل تھے، ذرائع کے مطابق پاکستان کرکٹ بورڈ نے بنگلادیش کو ریونیو اور ایونٹس دلوانے کی یقین دہانی کرائی ہے، ملاقات کے بعد امین الاسلام واپس وطن روانہ ہو گئے۔
ذرائع کے مطابق محسن نقوی نے عمران خواجہ سے کہا کہ اب بھارت کے خلاف میچ کھیلنے کا فیصلہ حکومت کی ہدایت کے مطابق ہی ہو سکتا ہے، جب کہ بنگلادیش کو ایونٹ سے باہر کیے جانے کے باعث ہونے والے نقصان کی تلافی ضروری ہے، ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے بنگلادیش کے ساتھ ہونے والی زیادتی پر اصولی مؤقف اپنایا اور اسی بنیاد پر بھارت کے خلاف میچ کا بائیکاٹ کیا گیا۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


