The news is by your side.

Advertisement

پاکستان نے بھارت کو ہرا کر تاریخ بدل ڈالی

پاکستان نے بھارت کو 10 وکٹوں سے شکست دے کر ورلڈکپ ٹی ٹوئنٹی کی تاریخ بدل ڈالی۔ گرین شرٹس نے عالمی کپ میں بھارت سے کامیابی کا جمود توڑ کر تاریخی فتح کو یادگار بنا لیا جو عرصہ تک شائقین کو یاد رہے گی۔ ورلڈٹی ٹوئنٹی میں قومی ٹیم کی بھارت کے خلاف یہ پہلی کامیابی ہے۔

بھارت کو آؤٹ کلاس کرنے کے بعد قومی ٹیم نے حریفوں کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ 152 ہدف کے تعاقب میں کپتان بابراعظم اور محمد رضوان نے شاندار بیٹنگ کرتے ہوئے نصف سنچریاں بنائیں۔ دونوں نے اننگز کے آغاز سے ہے بولرز پر دباؤ بنا رکھا اور میدان کے چاروں جانب شاندار اسٹروکس کھیل کر حریف ٹیم کی ایک نہ چلنے دی۔

اوپننگ جوڑی کے سامنے بولرز بے بس دکھائی دیے اور کسی لمحے پر بھی گرین شرٹس کے بلے بازوں نے بولرز کو اپنے اوپر ہاوی نہ ہونے دیا۔ محمد رضوان نے 55 گیندوں پر 78 رنز کی باری کھیلی جس میں 3 بلند و بالا چھکے اور 6 چوکے شامل تھے۔

کپتان بابراعظم نے شاندار بلے بازی کرتے ہوئے 52 گیندوں پر 68 رنز کی باری کھیلی جس میں 2 چھکے اور 6 چوکے شامل تھے۔ پاکستان نے 17 عشاریہ 5 اوورز میں بغیر کسی نقصان کے ہدف پورا کر لیا۔

نئی تاریخ رقم ہونے پر قومی ٹیم کے کھلاڑی میدان میں سجدہ ریز ہو گئے اور ایک دوسرے کو مبارکباد دیتے رہے۔ میدان میں کھلاڑیوں کا جشن دیدنی تھا اور اسٹیڈیم میں موجود ہزاروں تماشائیوں نے بھی گرین شرٹس کی کامیابی پر خوب ہلاگلا کیا۔

دبئی میں کھیلے گئے میچ میں قومی ٹیم کے کپتان بابراعظم نے ٹاس جیتا اور فیلڈنگ کو ترجیح دیتے ہوئے ‏بھارتی ٹیم کو بیٹنگ کی دعوت دی تو پہلے ہی اوور میں شاہین شاہ آفریدی نے خطرناک بیٹر روہت شرما کو ‏پویلین بھیج دیا جس کے بعد تیسرے اوور میں راہول کو بولڈ کر دیا۔

بھارت کی تیسری وکٹ سوریا کمار یادیو کی صورت میں گری جو 11 رنز بنا کر حسن علی کی گیند پر وکٹوں کے ‏پیچھے کیچ آؤٹ ہوئے۔ وکٹ کیپر محمد رضوان نے شاندار کیچ پکڑا۔ اس کیچ کے ساتھ ٹی ٹوئنٹی میں انہوں نے ‏کیچ پکڑنے کی سنچری مکمل کر لی۔

Image

31کے مجموعے پر وکٹیں گنوانے کے بعد کپتان ویرات کوہلی اور پانٹ نے ذمہ دارانہ بیٹنگ کرتے ہوئے اننگز کو آگے بڑھایا، پانٹ نے حسن علی کو ایک اوور میں 2 چھکے جڑ کر اپنے خطرناک عزائم کا اظہار کیا، چوتھی وکٹ پر کپتان اور پانٹ نے 53 رنز کی پارٹنرشپ قائم کی۔

بائیں ہاتھ کے بیٹر پانٹ 30 گیندوں پر 39 رنز بنا کر شاداب خان کا شکار بنے۔ 125 کے مجموعے پر جڈیجا کو حسن علی نے پویلین کی راہ دکھائی، اس دوران کپتان کوہلی وکٹ پر جمے رہے اور نصف سنچری مکمل کی، وہ 49 گیندوں پر 57 رنز بنا کر شاہین آفریدی کی گیند پر آؤٹ ہوئے۔

بھارتی ٹیم نے مقررہ 20 اوورز میں 7 وکٹوں پر 151 رنز بنائے، پانڈیا 11 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے جب کہ بھونیشورکمار 4 اور محمد شامی 0 پر آؤٹ ہوئے۔

پاکستان کی جانب سے شاہین شاہ آفریدی نے شاندار بولنگ کرتے ہوئے 3 وکٹیں حاصل کیں، حسن علی نے 2، حارث رؤف اور شاداب خان نے ایک ایک وکٹ حاصل کی۔

ٹاس کے موقع پر کپتان بابراعظم نے کہا کہ پچ کو مدنظر رکھتے ہوئے پہلے فیلڈنگ کا فیصلہ کیا ہے کوشش ہو ‏گی حریف ٹیم کو کم سے کم اسکور پر آؤٹ کریں۔

‏ انہوں نے بتایا کہ حیدرعلی فائنل الیون کا حصہ نہیں ہیں، پاکستان کی بولنگ لائن اچھی ہے اور ڈیو فیکٹر کی ‏وجہ سے بولنگ کا فیصلہ کیا کوشش ہوگی بھارت کو کم ٹوٹل پر روک سکیں۔

بھارتی کپتان ویرات کوہلی نے کہا کہ پاک بھارت میچ بڑا ہوتا ہے ہماری ٹیم متوازن ہے۔

قومی ٹیم: ‏

بابراعظم، محمد رضوان، فخرزمان، شعیب ملک، محمدحفیظ، عماد وسیم، شاداب خان، شاہین آفریدی، حسن علی، ‏حارث رؤف

بھارتی ٹیم

ویرات کوہلی، لوکیش راہول، روہت شرما، سوریاکمار، ریشبھ پنتھ، ہاردیک پانڈیا، جڈیجہ، بمراہ محمد شامی، ‏بھوونیشورکمار، ورون چکرورتی ‏

پاکستان اوربھارت کےدرمیان میچ کل والی پچ پر کھیلا جارہا ہے۔ اس پچ پر گزشتہ روز ویسٹ انڈیز کی ٹیم55رنز ‏پر آؤٹ ہوئی تھی۔

میچ کے حوالے سے ماہرین کا کہنا ہے کہ گیند رک کر آتی ہے اور اس میں ٹرن بھی موجود ہے جو کہ اسپنرز کے ‏لیے سازگار ہے۔

سابق کپتان یونس خان نے اے آر وائی نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پچ کے حوالے سے کوئی بریُ ‏بات نہیں کیونکہ کل کا میچ ہوا ہی کتنا ہے؟ ویسٹ انڈیز نے تو کھیلا ہی نہیں۔

یونس خان نے کہا کہ ہمیں سرپراز نہیں ہونا چاہیے، وکٹ کو زیادہ ڈسکس نہیں کرنا چاہیے ٹیم کو ڈٹ کر مقابلہ ‏کرنا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں