The news is by your side.

Advertisement

کے الیکٹرک کی فروخت کیوں نہیں ہو سکی، مشیر توانائی نے بتا دیا

اسلام آباد: کے الیکٹرک اور شنگھائی الیکٹرک معاہدے کے سلسلے میں وزیر اعظم کے مشیر توانائی تابش گوہر کے خلاف منظم مہم چلائی جانے لگی ہے، الجماعیہ گروپ کی جانب سے وزیر اعظم کو ایک شکایتی خط لکھا گیا، جس پر تابش گوہر کا جواب سامنے آ گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق مشیر توانائی تابش گوہر نے الجماعیہ گروپ کے الزامات مسترد کر دیے ہیں، تابش گوہر نے جواب میں کہا ہے کہ کے الیکٹرک کی نج کاری میں سب سے اہم مفاد شہر کراچی کا ہے، میں 2015 تک کے الیکٹرک کا سی ای او رہا، اس سے مفادات کا ٹکراؤ نہیں ہوتا، کے الیکٹرک کے لیے شنگھائی الیکٹرک کے ساتھ معاہدے میں خامیاں ہیں۔

تابش گوہر نے کہا اس معاہدے میں بنیادی خامیوں کی وجہ سے 5 سال سے فروخت ممکن نہیں ہو سکی ہے، 2016 سے 2 حکومتیں اور بیوروکریسی بھی شنگھائی الیکٹرک معاملہ حل نہ کر سکی، میں نے انویسٹرز کانفرنس میں کے الیکٹرک کی دعوت پر شرکت کی تھی، کلابیک قانون پر میری رائے کی بجائے نیپرا کی گزارشات اہم ہیں۔

صارفین کو کے الیکٹرک کے پنجے سے بچانے کے لیے وزیر اعظم کے معاون خصوصی کا اہم خط

انھوں نے رکاوٹوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا ٹرمز آف ریفرنس میں مجوزہ ثالث ٹریبونل رکاوٹوں میں سے ایک ہے، ٹرمز آف ریفرنس میں گردشی قرضے کا معاملہ بھی ڈیل کی راہ میں رکاوٹ ہے، کے الیکٹرک کی فروخت کے بعد نرخوں میں اضافے کا مطالبہ بھی ایک مسئلہ ہے، اور ادائیگیوں میں تاخیر پر سرچارج کی صارفین کو منتقلی کا مطالبہ بھی مسئلہ ہے۔

تابش گوہر نے کہا ہے کہ نیپرا نے سرچارج کی صارفین کو منتقلی کا مطالبہ تمام تقسیم کار کمپنیوں کے لیے پہلے ہی مسترد کر دیا ہے، مستقبل میں بجلی کی فراہمی پر ادائیگیوں کے طریقہ کار پر بھی بنیادی تنازعات ہیں، کے الیکٹرک اور اس کے مجوزہ خریدار کی مالی معاملات پر تشویش کی ایک حد تک اہمیت ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ شنگھائی الیکٹرک کے لیے ریاست اور عوام کو ثانوی حیثیت نہیں دی جا سکتی۔

واضح رہے کہ الجماعیہ نے کے الیکٹرک معاملات پر تابش گوہر کے کردار کو مفادات کا ٹکراؤ قرار دیا تھا، الجماعیہ نے وزیر اعظم کو شکایتی خط لکھ کر کہا تھا کہ تابش گوہر نے انویسٹرز کانفرنس میں خود شرکت کی اور منفی باتیں کیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں