The news is by your side.

Advertisement

براؤزنگ ٹیگ

saghar siddique

میں التفاتِ یار کا قائل نہیں ہوں دوست

میں التفاتِ یار کا قائل نہیں ہوں دوست سونے کے نرم تار کا قائل نہیں ہوں دوست مُجھ کو خزاں کی ایک لُٹی رات سے ہے پیار میں رونقِ بہار کا قائل نہیں ہُوں دوست ہر شامِ وصل ہو نئی تمہیدِ آرزو اتنا بھی انتظار کا قائل نہیں ہوں دوست دوچار دن کی…

یہ جو دِیوانے سے دو چار نظر آتے ہیں

یہ جو دِیوانے سے دو چار نظر آتے ہیں اِن میں کچُھ صاحبِ اسرار نظر آتے ہیں تیری محفل کا بھرم رکھتے ہیں سو جاتے ہیں ورنہ یہ لوگ تو بیدار نظر آتے ہیں دُور تک کوئی سِتارہ ہے نہ کوئی جگنو مرگِ اُمّید کے آثار نظر آتے ہیں میرے دامن میں شراروں…

ہے دعا یاد مگر حرفِ دعا یاد نہیں​

ہے دعا یاد مگر حرفِ دعا یاد نہیں​ میرے نغمات کو اندازِ نوا یاد نہیں​ ہم نے جن کے لئے راہوں میں بچھایا تھا لہو​ ہم سے کہتے ہیں وہی عہدِ وفا یاد نہیں​ زندگی جبرِ مسلسل کی طرح کاٹی ہے​ جانے کس جرم کی پائی ہے سزا، یاد نہیں​ میں نے پلکوں…

ذرا کچھ اور قربت زیر داماں لڑکھڑاتے ہیں

ذرا کچھ اور قربت زیر داماں لڑکھڑاتے ہیں مئے شعلہ فگن پی کر گلستاں لڑکھڑاتے ہیں تخیل سے گزرتے ہیں تو نغمے چونک اُٹھتے ہیں تصور میں بہ انداز بہاراں لڑکھڑاتے ہیں قرار دین و دنیا آپ کی بانہوں میں لرزاں ہیں سہارے دیکھ کر زلف پریشاں…

کلیوں کی مہک ہوتا تاروں کی ضیا ہوتا

کلیوں کی مہک ہوتا تاروں کی ضیا ہوتا میں بھی ترے گلشن میں پھولوں کا خدا ہوتا ہر چیز زمانے کی آئینہ دل ہوتی خاموش محبت کا اتنا تو صلہ ہوتا تم حالِ پریشاں کی پرسش کے لیے آتے صحرائے تمنا میں میلہ سا لگا ہوتا ہر گام پہ کام آتے زلفوں کے تری…

تیری نظر کا رنگ بہاروں نے لے لیا

تیری نظر کا رنگ بہاروں نے لے لیا افسردگی کا روپ ترانوں نے لے لیا جس کو بھری بہار میں غنچے نہ کہہ سکے وہ واقعہ بھی میرے فسانوں نے لے لیا شاید ملے گا قریۂ مہتاب میں سکوں اہل خرد کو ایسے گمانوں نے لے لیا یزداں سے بچ رہا تھا جلالت کا ایک…

اس درجہ عشق موجبِ رسوائی بن گیا

اس درجہ عشق موجبِ رسوائی بن گیا میں آپ اپنے گھر کا تماشائی بن گیا دیر و حرم کی راہ سے دل بچ گیا مگر تیری گلی کے موڑ پہ سودائی بن گیا بزم وفا میں آپ سے اک پل کا سامنا یاد آ گیا تو عہد شناسائی بن گیا بے ساختہ بکھر گئی جلووں کی کائنات…

فقیر شاعر ساغر صدیقی کو گزرے 43 برس بیت گئے

لاہور: اردو ادب کے عظیم فقیر منش شاعر ساغر صدیقی کو دنیا سے رخصت ہوئے تینتالیس برس بیت گئے لیکن ان کا کلام آج بھی زندہ ہے‘ ساغر 19 جولائی  1974  کو اس جہانِ فانی سے رخصت ہوگئے تھے۔ بُھولی ہوئی صدا ہوں مجھے یاد کیجیے تم سے کہیں ملا ہوں…

عظیم شاعر ساغر صدیقی کو رخصت ہوئے چالیس برس بیت گئے

اردو ادب کے عظیم شاعر ساغر صدیقی کو دنیا سے رخصت ہوئے  چالیس برس بیت گئے لیکن  ان کا کلام آج بھی زندہ ہے۔ بُھولی ہوئی صدا ہوں مجھے یاد کیجیے تم سے کہیں ملا ہوں مجھے یاد کیجیے منزل نہیں ہوں ، خضر نہیں ، راہزن نہیں منزل کا راستہ ہوں…