The news is by your side.

Advertisement

براؤزنگ ٹیگ

URDU POETRY

جوش ملیح آبادی کو گزرے 36 برس بیت گئے

برصغیر کے عظیم انقلابی شاعراورمرثیہ گوجوش ملیح آبادی 5 دسمبر 1898ء میں اترپردیش ہندوستان کے علاقے ملیح آباد کے ایک علمی اور متمول گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام شبیر حسن خان تھا۔ جوش کے والد نواب بشیر احمد خان، دادا نواب محمد احمد خاں…

خوشبوؤں کی شاعرہ کا آج 65واں یومِ ولادت ہے

محبت کی خوشبو بکھیرتی پروین شاکر کا65 واں یوم پیدائش آج منایا جارہا ہے‘ آپ نے روایات سے انکار کرتے ہوئے صنف نازک کے جذبات کی تصاویر بنائیں اوردکھوں اور کرب کو الفاظ کے سانچے میں ڈھال کر اشعار کہے۔ کو بہ کو پھیل گئی بات شناسائی کی اس نے…

شعلہ بیان شاعرشکیب جلالی کو بچھڑےاننچاس برس بیت گئے

 آج اردو زبان کے شعلہ بیان شاعر سید حسن رضوی المعروف شکیب جلالی کا یومِ وفات ہے ان کی شاعری معاشرتی نا ہمواریوں اور احساسِ محرومی کی عکاس ہے۔ یہ آدمی ہیں کہ سائے ہیں آدمیت کے گزر ہوا ہے مرا کس اجاڑ بستی میں شکیب جلالی کا اصل نام سید حسن…

مجھ سے ملنے شب غم اور تو کون آئے گا

مجھ سے ملنے شب غم اور تو کون آئے گا میرا سایہ ہے جو دیوار پہ جم جائے گا ٹھہرو ٹھہرو مرے اصنام خیالی ٹھہرو میرا دل گوشہ تنہائی میں گھبرائے گا لوگ دیتے رہے کیا کیا نہ دلاسے مجھ کو زخم گہرا ہی سہی زخم ہے بھر جائے گا عزم پختہ ہی سہی ترک…

کیا کہیئے کہ اب اس کی صدا تک نہیں آتی

کیا کہیئے کہ اب اس کی صدا تک نہیں آتی اونچی ہوں فصیلیں تو ہوا تک نہیں آتی شاید ہی کوئی آ سکے اس موڑ سے آگے اس موڑ سے آگے تو قضا تک نہیں آتی وہ گل نہ رہے نکہت گل خاک ملے گی یہ سوچ کے گلشن میں صبا تک نہیں آتی اس شور تلاطم میں کوئی کس…

جو بے ثبات ہو اس سر خوشی کو کیا کیجیئے

جو بے ثبات ہو اس سر خوشی کو کیا کیجیئے جو بے ثبات ہو اس سر خوشی کو کیا کیجیئے یہ زندگی ہے تو پھر زندگی کو کیا کیجیئے رکا جو کام تو دیوانگی ہی کام آئی نہ کام آئے تو فرزانگی کو کیا کیجیئے یہ کیوں کہیں کہ ہمیں کوئی رہنما نہ ملا مگر…

بھلا بھی دے اسے جو بات ہو گئی پیارے

بھلا بھی دے اسے جو بات ہو گئی پیارے نئے چراغ جلا رات ہو گئی پیارے تری نگاہ پشیماں کو کیسے دیکھوں گا کبھی جو تجھ سے ملاقات ہو گئی پیارے نہ تیری یاد نہ دنیا کا غم نہ اپنا خیال عجیب صورت حالات ہو گئی پیارے اداس اداس ہیں شمعیں بجھے بجھے…

دل کی بات لبوں پر لا کر اب تک ہم دکھ سہتے ہیں

دل کی بات لبوں پر لا کر اب تک ہم دکھ سہتے ہیں ہم نے سنا تھا اس بستی میں دل والے بھی رہتے ہیں بیت گیا ساون کا مہینہ موسم نے نظریں بدلیں لیکن ان پیاسی آنکھوں سے اب تک آنسو بہتے ہیں ایک ہمیں آوارہ کہنا کوئی بڑا الزام نہیں دنیا والے…

چلنے کا حوصلہ نہیں رکنا محال کر دیا

چلنے کا حوصلہ نہیں رکنا محال کر دیا عشق کے اس سفر نے تو مجھ کو نڈھال کر دیا اے مری گل زمیں تجھے چاہ تھی اک کتاب کی اہل کتاب نے مگر کیا ترا حال کر دیا ملتے ہوئے دلوں کے بیچ اور تھا فیصلہ کوئی اس نے مگر بچھڑتے وقت اور سوال کر دیا اب کے…

اک ہنر تھا کمال تھا، کیا تھا

اک ہنر تھا کمال تھا، کیا تھا مجھ میں تیرا جمال تھا، کیا تھا تیرے جانے پہ اب کے کچھ نہ کہا دل میں ڈر تھا ملال تھا، کیا تھا برق نے مجھ کو کر دیا روشن تیرا عکس جلال تھا، کیا تھا ہم تک آیا تو بہر لطف و کرم تیرا وقت زوال تھا کیا تھا جس…