سپریم کورٹ نےآج سانحہ ماڈل ٹاؤن کےمتاثرین کےچہروں پرخوشیاں لوٹادیں،طاہرالقادری
The news is by your side.

Advertisement

سپریم کورٹ نےآج سانحہ ماڈل ٹاؤن کےمتاثرین کےچہروں پرخوشیاں لوٹادیں،طاہرالقادری

اسلام آباد : پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ نےآج سانحہ ماڈل ٹاؤن کے متاثرین کے چہروں پر خوشیاں لوٹا دیں،  آج انصاف کا بول بالا ہوا ہے اور ثابت ہوگیا عدلیہ کا کوئی دروازہ کھٹکٹائے تو انصاف میسر آسکتا ہے۔

تفصیلات کے مطابق سانحہ ماڈل ٹاؤن کیس میں پیشی کے بعد پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری نے سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اللہ کا شکر ادا کرتاہوں،آج انصاف کا بول بالاہوا ہے ، سپریم کورٹ نے آج سانحہ ماڈل ٹاؤن کے متاثرین کے چہروں پرخوشیاں لوٹادیں۔

طاہر القادری کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ نے آج انصاف کا بول بالاکردیاہے، چیف جسٹس سمیت لارجربینچ کامشکورہوں، آج ثابت ہوگیا ہے عدلیہ کا کوئی دروازہ کھٹکٹائے تو انصاف میسر آسکتا ہے۔

امیدر کھتےہیں سانحہ ماڈل ٹاؤن کے متاثرین کوانصاف ملے گا

سربراہ پاکستان عوامی تحریک نے کہا لارجربینچ نے اطمینان سے ہمارا کیس سنا، عدلیہ کامشکورہوں، نئی جےآئی ٹی کی تشکیل سےمتعلق حکومت نےیقین دہانی کرائی ہے، امید ہے نئی جے آئی ٹی کی تشکیل کے بعد کیس کی شفاف تحقیقات ہوں گی۔

ان کا کہنا تھا کہ امیدر کھتےہیں سانحہ ماڈل ٹاؤن کے متاثرین کوانصاف ملے گا،عدلیہ کےفیصلے پر حکومت پنجاب نے یقین دہانی کرائی ہے، حکومت کے بھی مشکور ہیں کہ انہوں نے عدلیہ کو یقین دہانی کرائی۔

یاد رہے سانحہ ماڈل ٹاؤن کیس میں حکومت کی جانب سے سانحہ ماڈل ٹاؤن کیس میں نئی جےآئی ٹی تشکیل دینے کی یقین دہانی کرانے پر سپریم کورٹ نے درخواست نمٹادی، چیف جسٹس نے طاہر القادری سے مکالمے میں کہا دھرنا دینے سے پہلے آپ کو عدالت میں آنا چاہیے تھا، جن لوگوں کے پاس آپ جاتے تھے، وہ عدلیہ سےبڑےنہیں۔

مزید پڑھیں : سانحہ ماڈل ٹاؤن کیس ، حکومت کی عدالت کو نئی جےآئی ٹی تشکیل دینے کی یقین دہانی

عدالت میں طاہرالقادری نے دلائل دیتے ہوئے کہا میرےدروازےپردونوں خواتین کوگولیاں ماری گئیں، 4سال ہمارےملزم اقتدارمیں تھے، شہدا کے لواحقین کو تسلیاں دیتے ہوئے ساڑھے 4سال ہوگئے، کیا ہم فلسطینی تھے جو ہم پر اسرائیلی فوج نے گولیاں چلائیں، 4سال سے مظلوموں کے سر پر ہاتھ رکھ رہا ہوں، واقعے سے پہلے کےحالات کا جائزہ لینا بھی ضروری ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں