The news is by your side.

Advertisement

دامن صاف ہوتا تو منی ٹریل آتی، قطری خط نہ آتے، طاہر القادری

لاہور : سربراہ پاکستان عوامی تحریک طاہر القادری نے کہا ہے کہ اشرافیہ کا دامن صاف ہوتا تو منی ٹریل کی جگہ قطری خط نہ آتے اور سپریم کورٹ نااہلی کا فیصلہ دینے پر مجبور نہیں ہوتی.

سربراہ پاکستان عوامی تحریک ڈاکٹر طاہر القادری پارٹی کے سینئر رہنماؤں سے ٹیلی فونک گفتگو کر رہے تھے انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ متنازع نہیں بلکہ متفقہ ہے جس پر منفی پروپیگنڈا کرنے والے قابل گرفت ہیں اور توہین عدالت کے مرتکب ہیں.

انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) اداروں کے خلاف ہرزہ سرائی کر کے عوام کو بغاوت پر اکسا رہی ہے تاکہ ملک میں انارکی پھیلے اور انتشار و افراتفری سے ملک کے نظام کو تہس نہس کیا جائے.

انہون نے کہا کہ نوازشریف سپریم کورٹ کے خلاف مارچ کے اعلانات کر رہے ہیں جس پر ان کی باز پرس کی جانی چاہیئے اوراگر نا اہل نواز شریف کو مزید ڈھیل ملی تو ملک میں اتنی بربادی ہوگی.

علامہ طاہر القادری نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان کو غیر فعال رکھنے والے حکمراں اب اسے مکمل طور پر ختم کرنے کے در پے ہیں تاکہ دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کو روکا جائے اور ملک میں خوف کی فضاء قائم رہے.

انہوں نے کہا کہ رواں ہفتے جسٹس باقرنجفی کمیشن کی رپورٹ پر فیصلہ آنے کی امید ہے جس کے بعد ماڈل ٹاؤن سانحے کے ذمہ داروں کو کہیں پناہ نہیں ملے گی.

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں