انتخاب سے پہلے احتساب ہو، کرپٹ لوگوں کو الیکشن سے روکا جائے، طاہرالقادری tahir qadri
The news is by your side.

Advertisement

انتخاب سے پہلے احتساب ہونا چاہیئے، کرپٹ افراد کو الیکشن میں حصہ نہ لینے دیا جائے، طاہرالقادری

لاہور : سربراہ پاکستان عوامی تحریک طاہر القادری نے کہا ہے کہ قوی امید ہے کل ہمارے لیے تاریخی دن ہوگا جب لاہور ہائی کورٹ ہمارے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے جسٹس باقر نجفی کی رپورٹ عام کرنے کا حکم دے گی.

ڈاکٹر طاہر القادری اے آر وائی نیوز کے پروگرام الیونتھ آور کے میزبان وسیم بادامی سے گفتگو کر رہے تھے، انہوں نے کہا کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن میں کون سی فرقہ واریت تھی جس کا بہانہ بناتے ہوئے جسٹس باقر نجفی کی رپورٹ کو منظرعام پر نہیں لایا جا رہا ہے.

انہوں نے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ باقرنجفی رپورٹ میں قاتلوں کے نام موجود ہیں جنہیں بچانے کے لیے رپورٹ شائع نہیں کی جا رہی ہے اگر شریف خاندان کے خلاف حقائق منظرعام پرآجائیں توفرقہ واریت ہوجاتی ہے دراصل یہ بہانے باز لوگ ہیں.

علامہ طاہر القادری نے کہا کہ انشااللہ کل پنجاب حکومت کی درخواست مسترد ہوگی جس کے بعد ماڈل ٹاؤن رپورٹ پبلک کرانے کیلئے آئندہ کے اقدامات کا اعلان کروں گا جس کے باعث یہ مقدمہ حکمرانوں کے خلاف پاناما سے بھی زیادہ تکلیف دہ ثابت ہوگا ہمیں عدالتوں پر یقین ہے اور ہمارے حق میں فیصلہ آئے گا.

انہوں نے کہا کہ ہماری یہی کوشش تھی یہ اقتدار سے ہٹیں اور فیصلہ آئے لیکن ایسا نہیں ہوا اور نہ ہی یہ ہوا کہ شہبازشریف کا استعفیٰ آیا ہو لیکن ہم نے قبول نہ کیا ہو بات صرف اتنی ہے کہ مظلوموں کے حق کیلئے ہماری جنگ جاری رہے گی اور ماڈل ٹاؤن کیس میں لوگ جیل بھی جائیں گے اور پھانسی بھی چڑھیں گے.

ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا ہے کہ ختم نبوت کے معاملے پر میری حمایت فیض آباد دھرنے والوں کے ساتھ ہے،ان کا مطالبہ بالکل درست تھا کہ ختم نبوت قانون میں ردوبدل کرنے والے کو سامنے لایا جائے گو ختم نبوت قانون میں تبدیلی نوازشریف کی ایما پرکی گئی لیکن استعفیٰ زاہد حامد سے لیا گیا.

ایک سوال کے جواب میں انہوں ںے کہا کہ معاہدے معاہدے ہوتے ہیں ان کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہوتی جیسا کہ پچھلی دفعہ ہم سے کیے گئے معاہدے پر وزیراعظم نے بھی دستخط کیے تھے لیکن اس پر عمل در آمد آج تک نہیں ہوپایا ہے اس اندازہ لگائیں کہ ان کے معاہدوں پر کتنا یقین کیا جا سکتا ہے.

الیکشن کے قبل از وقت ہونے سے متعلق انہوں نے کہا کہ ملک میں احتساب اور اصلاحات کے بغیر انتخابات کا کوئی فائدہ نہیں کرپٹ افراد کو نظام سے نکالے بغیر کچھ ٹھیک نہیں ہوگا کیوں کہ احتساب اور انتخابی اصلاحات نہ ہوئیں تو پھر یہی کرپٹ لوگ واپس آجائیں گے چنانچہ پہلے احتساب اور انتخابی اصلاحات ہونی چاہیئے.

مارشل لاء سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں طاہر القادری نے کہا کہ پاکستان میں مارشل لا کا کوئی امکان نہیں ہے اور مارشل لا سے کوئی فائدہ بھی نہیں ہوتا لیکن موجودہ نظام کے تحت الیکشن کو نہیں مانتا اس لیے سپریم کورٹ بھی آئین پاکستان کے تحت کرپٹ لوگوں کی استثنیٰ نہیں ہونی چاہئے اورتمام کرپٹ لوگوں کا احتساب ہونا چاہئے اس کے بغیر کسی کو انتخابات میں حصہ نہیں لینے دیا جائے.

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں