تیمور قتل کیس: واقعے کا ملزم پولیس اہلکار بے گناہ قرار -
The news is by your side.

Advertisement

تیمور قتل کیس: واقعے کا ملزم پولیس اہلکار بے گناہ قرار

اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں تیمور قتل کیس کے مرکزی ملزم پولیس اہلکار سمیع اللہ کو پیٹی بند بھائیوں نے کلین چٹ دے دی۔

تفصیلات کے مطابق تیمور قتل کیس میں اسلام آباد پولیس نے پیٹی بند بھائی کو کلین چٹ دے دی۔ تفتیش کاروں نے اہلکار کی فائرنگ سے ہلاک نوجوان کے قتل کے الزام میں گرفتار اہلکار سمیع اللہ کو بے گناہ قرار دے دیا۔

اسلام آباد میں پولیس اہلکار کی فائرنگ سے ہلاک تیمور کے مقدمے کا چالان عدالت میں پیش کیا گیا۔ چالان میں ملزم سمیع اللہ کی فائرنگ کو غیر ارادی فعل قرار دیا گیا ہے۔

چالان میں عدالت کو بتایا گیا کہ پولیس اہلکار سمیع نے دوران ڈیوٹی مقتول تیمور کو رکنے کا اشارہ کیا تو اس نے گاڑی بھگانے کی کوشش کی جس پر اہلکار نے فائرنگ کر دی جس سے تیمور کی موت واقع ہوگئی۔

مزید پڑھیں: پولیس کی فائرنگ سے جاں بحق تیمور کے لواحقین کا احتجاج

چالان میں ملزم سمیع کے ساتھ جائے وقوعہ پر موجود اور تیمور قتل کیس میں گرفتار دوسرے پولیس اہلکار طارق کو بھی کلین چٹ مل گئی اور اسے ملزمان کی فہرست سے خارج کر کے گواہان میں شامل کرلیا گیا۔

چالان میں مقتول تیمور کی ساتھی خاتون ماہین، 3 پولیس اہلکار اور پمز اسپتال کے ڈاکٹرز بھی گواہان میں شامل ہیں۔

واضح رہے کہ 3 فروری کو اسلام آباد کے سیکٹر آئی ٹین میں پولیس نے ایک کار کو رکنے کا اشارہ کیا، گاڑی نہ روکنے پر پولیس اہلکار نے فائرنگ کر دی جس سے کار میں موجود نوجوان جاں بحق ہو گیا۔ کار میں ایک لڑکی بھی سوار تھی جو محفوظ رہی۔

مقتول تیمورکا تعلق مردان سے تھا۔

پولیس نے دعویٰ کیا تھا کہ تیمور نشے میں تھا تاہم پوسٹ مارٹم رپورٹ میں اس کی تصدیق نہیں ہوئی۔

واقعہ میں ملوث پولیس اہلکار پہلے فرار ہوگئے، بعد ازاں انہوں نے خود کو قانون کے سامنے پیش کردیا۔ فائرنگ کرنے والے پولیس اہلکار سمیع اللہ کو کئی روزہ ریمانڈ پر پولیس کے حوالے بھی کیا گیا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں