واشنگٹن (03 نومبر 2025): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ چین کے صدر شی جن پنگ نے انھیں یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ ریپبلکن دورِ حکومت میں تائیوان پر کوئی حملہ نہیں کریں گے۔
ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ چینی صدر شی جن پنگ نے انھیں یہ یقین دہانی کرائی ہے کہ جب تک وہ (ٹرمپ) منصبِ صدارت پر ہیں، بیجنگ اپنی دیرینہ پالیسی یعنی تائیوان کو چین کے ساتھ دوبارہ ملانے کے سلسلے میں کوئی کارروائی نہیں کرے گا۔
ٹرمپ نے کہا کہ تائیوان کا متنازع معاملہ اُن کی جمعرات کو جنوبی کوریا میں شی جن پنگ کے ساتھ ہونے والی بات چیت میں زیرِ بحث نہیں آیا، کیوں کہ وہ ملاقات زیادہ تر امریکا اور چین کے درمیان تجارتی کشیدگی پر مرکوز تھی۔ تاہم امریکی صدر نے یقین ظاہر کیا کہ ان کے عہدِ صدارت کے دوران چین تائیوان کے حوالے سے کوئی اقدام نہیں کرے گا۔
ٹرمپ نے اتوار کو نشر ہونے والے سی بی ایس کے پروگرام ’60 منٹس‘ کے ایک انٹرویو میں کہا ’’انھوں نے علانیہ طور پر کہا ہے، اور ان کے لوگوں نے بھی اجلاسوں میں کھل کر کہا ہے کہ جب تک ٹرمپ صدر ہیں، ہم کبھی کچھ نہیں کریں گے، کیوں کہ وہ نتائج جانتے ہیں۔‘‘
سروے: ڈونلڈ ٹرمپ کی کارکردگی سے عوام کی اکثریت ناخوش
امریکی حکام طویل عرصے سے اس امکان پر تشویش کا اظہار کرتے رہے ہیں کہ چین تائیوان کے خلاف فوجی طاقت استعمال کر سکتا ہے، کیوں کہ بیجنگ خود مختار جمہوری جزیرے تائیوان کو اپنی سرزمین کا حصہ قرار دیتا ہے۔
جب ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ اگر چین تائیوان پر حملہ کرے تو کیا وہ امریکی افواج کو دفاع کے لیے حکم دیں گے، تو انھوں نے براہِ راست جواب دینے سے گریز کیا۔ امریکا میں ریپبلکن اور ڈیموکریٹک دونوں حکومتوں نے تائیوان کے معاملے پر ’اسٹریٹجک ابہام‘ کی پالیسی برقرار رکھی ہے، یعنی اس بات پر غیر واضح رہنا کہ آیا امریکا ایسے کسی منظرنامے میں تائیوان کی مدد کرے گا یا نہیں۔
ٹرمپ نے کہا ’’اگر ایسا ہوا تو آپ کو پت چل جائے گا، اور وہ (شی) اس جواب کو سمجھتے ہیں۔‘‘
دوسری طرف واشنگٹن میں چینی سفارت خانے کے ترجمان لیو پینگیُو نے اس سوال کا براہِ راست جواب نہیں دیا کہ آیا ٹرمپ کو شی جن پنگ یا کسی چینی اہلکار کی جانب سے تائیوان کے حوالے سے کوئی یقین دہانی حاصل ہوئی ہے۔ تاہم انھوں نے ایک بیان میں زور دیا کہ چین ’’کبھی بھی کسی شخص یا طاقت کو کسی بھی صورت میں تائیوان کو چین سے علیحدہ کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔‘‘
ترجمان نے کہا ’’تائیوان کا مسئلہ چین کا داخلی معاملہ ہے، اور یہ چین کے بنیادی مفادات کا بنیادی نکتہ ہے۔ تائیوان کے مسئلے کا حل چینی عوام کا معاملہ ہے، اور صرف چینی عوام ہی اس کا فیصلہ کر سکتے ہیں۔‘‘ وائٹ ہاؤس نے بھی یہ وضاحت نہیں کی کہ کب شی جن پنگ یا چینی حکام نے ٹرمپ کو یہ بتایا کہ تائیوان پر کسی فوجی کارروائی کا امکان ریپبلکن صدر کے دورِ حکومت میں موجود نہیں۔


