پیر, جولائی 13, 2026
اشتہار

تائیوان کو بیجنگ کے خلاف امریکا سے ایف 16 جنگی طیاروں کا انتظار شدت اختیار کر گیا

اشتہار

حیرت انگیز

تائی پے (03 نومبر 2025): بیجنگ کی جانب سے مسلسل بڑھتے فوجی خطرے کا سامنا کرنے والے تائیوان کو امریکا کی جانب سے ایف 16 جنگی طیاروں اور دیگر ہتھیاروں کا شدید انتظار ہے، لیکن یہ بڑھتا ہی جا رہا ہے۔

امریکا کی جانب سے تائیوان کو بتایا گیا ہے کہ تاخیر کے شکار ایف-16 وی (F-16V) جنگی طیاروں کی تیاری کو تیز کرنے کے لیے اضافی اوقات میں کام کیا جا رہا ہے، یہ بات پیر کو تائیوان کی وزارتِ دفاع نے اپنی رپورٹ میں بتائی۔

روئٹرز کے مطابق تائیوان کو بتایا گیا ہے کہ سپلائی چین کے مسائل کے باعث امریکی ساختہ جدید گلائیڈ بموں (glide bombs) کی ترسیل بھی مؤخر ہو گئی ہے۔ تائیوان کو امریکا سے خریدے گئے ہتھیاروں کی بار بار تاخیر پر شکایت ہے۔

امریکا وہ ملک ہے جو جزیرے تائیوان (جس پر چین نے ملکیت کا دعویٰ کیا ہے) کا سب سے اہم بین الاقوامی حامی اور اسلحہ فراہم کرنے والا بنیادی فریق ہے۔ پارلیمنٹ کو پیش کی گئی ایک رپورٹ میں تائیوان کی وزارتِ دفاع نے کہا کہ تمام 66 ایف-سولہ وی طیاروں کی ترسیل، جو ابتدائی طور پر 2026 کے آخر تک متوقع تھی، پیداواری لائن کے مقام کی تبدیلی اور رکاوٹوں کی وجہ سے مؤخر ہو گئی ہے۔


ٹوماہاکس میزائل، ٹرمپ نے یوکرین کی امیدوں پر پانی پھیر دیا


وزارت نے بتایا کہ امریکا میں پیداوار کی رفتار بڑھانے کے لیے ٹھیکے دار دن میں 2 شفٹوں میں مجموعی طور پر 20 گھنٹے کام کر رہے ہیں۔ پارلیمان میں خطاب کرتے ہوئے وزیرِ دفاع ویلنگٹن کو (Wellington Koo) نے کہا کہ امریکا اور تائیوان مل کر تاخیر کے مسئلے پر کام کر رہے ہیں، اور ’لاک ہیڈ مارٹن‘ کی جانب سے بنائے جانے والے 50 طیارے پہلے ہی پروڈکشن لائن پر موجود ہیں۔ ان میں سے 10 طیارے اس سال آزمائشی پروازوں کے مرحلے میں داخل ہوں گے اور 2026 میں تائیوان کو فراہم کیے جائیں گے۔

وزارتِ دفاع نے یہ بھی بتایا کہ 24 ایم کے-48 تارپیڈوز اور 4 تربیتی (ڈمی) تارپیڈوز کی ترسیل (جو تائیوانی 5.46 ارب ڈالر (178.47 ملین امریکی ڈالر) میں خریدے گئے تھے اور 2026 تک فراہم کیے جانے تھے) پیداواری عمل میں رکاوٹوں کی وجہ سے اب 2026 سے 2028 کے درمیان مکمل ہونے کی توقع ہے۔

وزارت نے ایک اور ہتھیاری نظام میں بھی تاخیر کی اطلاع دی، ریتهون (Raytheon) کی جانب سے تیار کردہ AGM-154C جوائنٹ اسٹینڈ آف گلائیڈ بم، جن کی لاگت تائیوانی 135.97 ارب ڈالر بتائی گئی ہے، سپلائی چین کے مسائل کے باعث ان کی ترسیل 2027 سے 2028 کے درمیان متوقع ہے۔

وزارت نے کہا کہ ہائی موبلٹی آرٹلری راکٹ سسٹمز (HIMARS) کی ترسیل شیڈول سے پہلے ہو رہی ہے۔ بقیہ 18 ہائمارس سسٹمز اب 2026 کی چوتھی سہ ماہی میں تائیوان پہنچنے کی توقع ہے، جب کہ ابتدائی منصوبے کے مطابق یہ 2027 میں آنے والے تھے۔

یاد رہے کہ اس سال مئی میں تائیوان نے پہلی بار اپنے نئے ہائمارس راکٹ سسٹم کا کامیاب تجربہ کیا تھا، یہ وہی نظام ہے جو یوکرین نے روس کے خلاف مؤثر طریقے سے استعمال کیا ہے اور اگر چین کے ساتھ جنگ چھڑ جائے تو تائیوان کے لیے چینی اہداف کو نشانہ بنانے میں استعمال ہو سکتا ہے۔

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں