The news is by your side.

Advertisement

تاج محل مندر نہیں اسلامی تاریخی عمارت ہے، بھارتی سرکاری حکام

نئی دہلی: بھارت کے سرکاری محکمے نے تسلیم کیا کہ تاج محل مندر نہیں بلکہ اسلامی تاریخی عمارت ہے جہاں مقبرہ موجود ہے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق آگرہ کی عدالت میں تاج محل کو مندر قرار دینے کے حوالے سے کیس کی سماعت ہوئی جہاں بھارتی محکمہ آثار قدیمہ کے حکام نے عدالت کو آگاہ کیا کہ ’’تاج محل مندر نہیں بلکہ یہ جگہ مسلمان بادشاہ شہنشاہ شاہ جہاں نے اپنی اہلیہ ممتاز بیگم کی یاد میں تعمیر کی تھی‘‘۔

محکمہ آثار قدیمہ کے حکام نے عدالت میں اس بات کے شواہد بھی پیش کیے کہ سن 1920 میں تاج محل کی حفاظت کے لیے سرکاری نوٹی فکیشن جاری کیا گیا تھا جس کے مطابق اس قدیم عمارت کے تحفظ کو یقینی بنانے کی ذمہ داری موجودہ حکومت پر عائد ہوگی۔

عدالت میں سروے حکام بھی پیش ہوئے جنہوں نے دورانِ سماعت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ ’تاج محل کو مندر قرار دینے سے متعلق درخواستیں اُن لوگوں نے دائر کیں جن کا اسلام سے نہیں بلکہ دیگر مذاہب سے تعلق ہے‘۔

سروے حکام نے عدالت کو آگاہ کیا کہ ’تاج محل کا شمار دنیا کے ساتویں عجوبے میں ہوتا ہے اور اسے مسلمان بادشاہ نے 1904 میں تیار کیا، اس عمارت کو انگریز دور میں تعمیر کیا گیا لہذا عدالت اسے مقبرہ قرار دیتے ہوئے حفاظت کی ذمہ داری موجودہ حکومت پر عائد کرے کیونکہ یہ عمارت اسلامی ثقافت کی غمازی کرتی ہے‘۔

عدالت نے محکمہ آثار قدیمہ اور سروے حکام کا مؤقف سننے کے بعد مرکزی حکومت، مرکزی وزارتِ ثقافت، ہوم سیکریٹری سمیت دیگر متعلقہ اداروں کو نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت 11 ستمبر تک ملتوی کردی۔

پڑھیں: محبت کی نشانی تاج محل آلودگی کے باعث خرابی کا شکار

سروے حکام نے عدالت میں یہ مؤقف بھی اختیار کیا کہ بھارتی سپریم کورٹ پہلے ہی تاج محل کو اسلامی عمارت قرار دے چکی ہے لہذا اس ضمن میں دائر درخواستوں کو فوری طور پر مسترد کر کے فیصلہ سنایا جائے۔

واضح رہے بھارت کے موجودہ وزیراعظم نریندر مودی نے اپنی انتخابی مہم کے دوران مسلم مخالف تقاریر کی تھیں اور ہندوستان سے مسلمانوں کے خاتمے کا عزم بھی کیا تھا یہی وجہ ہے کہ مودی سرکار کے آنے کے بعد سے گائے کے ذبیحہ کرنے پر پابندی اور بابری مسجد سمیت تاج محل کو مندر قرار دینے جیسے حساس معاملات طول پکڑ گئے۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں