The news is by your side.

Advertisement

شاہ جہاں کا عرس : تاج محل میں ہندو انتہا پسندوں کی شر انگیزی

آگرہ : انتہا پسند ہندو تنظیم سے وابستہ کچھ عناصر تاج محل میں اچانک پوجا کرنے پہنچ گئے، سیکورٹی اہلکاروں نے ملزمان کو گرفتار کرکے تھانے منتقل کردیا۔

عالمی شہرت یافہ مغلیہ دور کی شاندار عمارت تاج محل میں حفاظتی امور پر تعینات اہلکار اس وقت سکتے میں آگئے جب ہندو وادی تنظیم سے وابستہ کچھ شرپسند عناصر وہاں آکر پوجا کرنے لگے۔

تاج محل میں مغل بادشاہ شاہجہاں کا تین روزہ عرس بھی چل رہا ہے، عرس کے دوران وہاں آنے والوں کو تاج محل کی مفت سیر کرائی جاتی ہے اور شاہجہاں اور ان کی ملکہ ممتاز محل کی حقیقی قبور کی زیارت کی بھی اجازت دی جاتی ہے۔ عرس کل بروز جمعہ اختتام پذیر ہونے جا رہا ہے۔

ایسے موقع پر ہندو تنظیم سے وابستہ لوگوں کا تاج محل میں داخل ہونا اور مرکزی گنبد کے سامنے پوجا پاٹھ کرنا کسی بھی ناخوشگوار واقعہ کا باعث بن سکتا تھا تاہم حفاظتی اہلکاروں نے مستعدی سے کام کیا اور شرپسندوں کو گرفتار کر لیا۔

گرفتار ہونے والوں میں ہندو مہاسبھا کی ریاستی سربراہ مینا دیواکر بھی شامل ہے، خیال رہے کہ گرفتار کی جانے والی مینا دیواکر اس سے پہلے بھی کچھ خواتین کے ہمراہ تاج محل میں داخل ہو گئی تھی اور تاج محل میں گنگا جل چھڑکنے کی ویڈیو بھی وائرل ہوئی تھی۔

یاد رہے کہ بھارت میں آج ہندو برادری اپنا مذہبی تہوار منا رہی ہے اور اس موقع پر وہ اپنے دیوتا شیو کی پوجاکرتے ہیں۔ شر پسند ہندو تنظیموں کا بھارت کے دیگر مقامات کی طرح تاج محل پر بھی یہ دعویٰ ہے کہ وہ ایک مندر تھا، اسی وجہ سے جمعرات کے روز یہ لوگ وہاں پوجا کرنے کے لیے پہنچ گئے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں