site
stats
سندھ

وزیراعلیٰ کا ہڑتال اور دھرنے کی کال دینے والوں کے خلاف کارروائی کا حکم

کراچی : وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے کہا ہے کہ کچھ مفاد پرست عوام دشمن عناصر شہر میں امن و امان کی صورتحال کو خراب کرنا چاہتے ہیں تاکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی قربانیوں کو ضائع کیا جاسکے۔

وزیر اعلیٰ سندھ اور آئی جی سندھ پولیس اے ڈی خواجہ کے مابین وزیراعلیٰ ہاؤس میں ملاقات ہوئی، جس میں شہر میں جاری آپریشن اور پولیس کی کارروائیوں پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔

اس موقع پر وزیر اعلی سندھ قائم علی شاہ نے آئی جی کو ہدایت کی کہ کچھ لوگ اپنی طاقت کا مظاہرہ کرنے کے لیے ہڑتال اور دھرنے کی کال دے رہے ہیں مگر اب عوام ایسی تمام اپیلوں کو مسترد کرتے ہیں جس کی مجھے بہت خوشی ہے، ایسے تمام عناصر کے خلاف سندھ پولیس سخت کارروائی کرے حکومت پولیس ساتھ ہے۔

آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ نے وزیراعلیٰ سندھ کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے سندھ پولیس اور حساس اداروں کے لیے 100 ملین روپے کے انعامات کی سمری منظوری کے لیے وزیر اعلیٰ ہاؤس بھیج دی ہے، جس میں سے 70 فیصد حساس ادارے کے اہلکاروں جبکہ 30 فیصد پولیس اہلکاروں کو انعام دیا جائے گا۔

آئی جی سندھ نے مزید بتایا کہ محکمہ پولیس میں جعلی بھرتی ہونے والے 993 اہلکاروں کو برطرف کردیا گیا ہے، وزیر اعلیٰ سندھ نے اے ڈی خواجہ کو ہدایت کی کہ ہٹائے جانے والے اہلکاروں کی قابلیت جانچنے کے لیے ایک کمیٹی قائم کی جائے اور جو افراد اہل ہیں انہیں دوبارہ نوکری پر بحال کردیا جائے کیونکہ ہمیں محکمہ پولیس میں اہلکاروں کی کمی کا سامنا ہے۔

آئی جی سندھ نے وزیر اعلی کو بتایا کہ ’’پولیس تھانوں کے کلچر کو تبدیل کرنے کے لیے سخت محنت کررہے ہیں اور کسی افسر یا اہلکار کو اُس کی حدود سے تجاوز کی کسی صورت اجازت نہیں کی جائے گی، میری یہی خواہش ہے کہ محکمہ پولیس میں ہر چیز کو شفاف طریقے سے مکمل کیا جائے‘‘۔

وزیر اعلیٰ سندھ نے آئی جی سندھ پولیس کو ہدایت کی کہ وہ شہر میں جاری اسٹریٹ کرائمز کی وارداتوں کے خاتمے کو یقینی بنائیں اور شہریوں کو مکمل تحفظ فراہم کیا جائے، پولیس کارکردگی سے مطمئن ہوتے ہوئے وزیر اعلیٰ سندھ نے آئی جی سندھ کی جانب سے بھیجی گئی سمری کی رقم کی منظوری دے دی ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top