The news is by your side.

Advertisement

’مجبور ہیں لیکن محتاج نہیں، ہاتھ پھیلانے سے بہتر ہے محنت کی کمائی‘ ایک باہمت شخص کی کہانی

کراچی: ہمارے معاشرے میں ایسے بہت سارے لوگ ہیں جو مالی مسائل اور پریشانیوں سے دوچار ہونے کے باوجود ہاتھ پھیلانا پسند نہیں کرتے، یہ بھی ایسے ہی ایک پُر عزم محنت کش کی کہانی ہے۔

اے آر وائی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے اس محنت کش کے چہرے کا سکون بخوبی دیکھا جا سکتا ہے، جو اپنے چھوٹے سے گھر کی کائنات میں بیوی بچوں کے ساتھ صبر اور شکر کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔

یہ ہیں طالب حسین، جو گزشتہ کئی برس سے کراچی میں صدر کے علاقے میں دال سیو فروخت کر رہے ہیں، انھیں گھر کا کرایہ بھی دینا پڑتا ہے، بچوں کی پڑھائی کے اخراجات بھی پورے کرنے ہوتے ہیں، گھر کی دال روٹی تو کرنی ہی ہوتی ہے، لیکن انھوں نے کبھی ہمت نہیں ہاری۔

رمضان کا مہینا مسلمانوں کے لیے رحمتیں اور برکتیں لے کر آتا ہے، لیکن اسی مہینے میں چالیس سالہ طالب حسین کی ایک اور آزمائش بھی ہوتی ہے، جہاں دوسرے لوگ اس مہینے میں سیزنز سے سال بھر سے زیادہ کماتے ہیں وہاں طالب حسین کا کام اس ماہ ختم ہو جاتا ہے، وہ سیو مارکیٹوں میں بیچتے ہیں اور روزوں میں یہ فروخت ختم ہو جاتی ہے، اس کے باوجود اس محنت کش کے ماتھے پر ایک بھی بل نہیں آتا۔

جو سب سے اہم بات ہے وہ یہ ہے کہ اس غریب خاندان کے کئی بچوں کی تعلیم مسلسل جاری ہے، ان کا عزم ہے کہ ان کے بچے پڑھیں گے لکھیں گے، چاہے کچھ بھی ہو جائے۔

طالب حسین کہتے ہیں کہ ہاتھ پھیلانے سے کیا ملے گا، کوئی کتنا کھلائے گا، اس سے کام نہیں ہوگا، گھر بیٹھ کر گزرا نہیں ہوگا، باہر نکل کر کوئی محنت مزدوری کرنی پڑے گی۔

دوسری طرف طالب حسین کی اہلیہ بھی سلائی کڑھائی کا کام کر کے اپنے میاں کا ساتھ دے رہی ہیں، انھوں نے کہا کہ رمضان شریف میں میاں کا کام بند ہو جاتا ہے تو اس دوران میں گھر میں سلائی کڑھائی کا کام کرتی ہوں اور اس طرح ہم گزارا کرتے ہیں۔

ان میاں بیوی کی ایک ہی سوچ ہے کہ چاہے کچھ بھی ہو جائے ہمت نہیں ہاریں گے اور نہ ہی بچوں کو تعلیم سے دور کریں گے۔ واضح رہے کہ ہمارے معاشرے میں ایسے بھی بہت سارے لوگ ہیں جو ہاتھ پھیلانے پر یقین نہیں رکھتے، اور اپنے رب پر بھروسا رکھتے ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں