The news is by your side.

Advertisement

طالبان کے حملے، سیکورٹی اہل کاروں سمیت 38 افراد ہلاک

کابل: امریکی صدر کی جانب سے مذاکرات کا عندیہ دینے کے باوجود طالبان کے حملے نہ رکے، متعدد شدت پسند کارروائیوں میں سیکورٹی اہل کاروں سمیت 38 افراد ہلاک ہوگئے۔

تفصیلات کے مطابق افغان دارالحکومت کابل سمیت مختلف علاقوں میں طالبان کے حملوں میں سیکورٹی اہل کاروں سمیت اڑتیس افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے، حالیہ دنوں میں افغانستان میں دہشت گرد کارروائیوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق ان حملوں میں اقوام متحدہ کے اہل کار کی ہلاکت بھی شامل ہے، کابل میں اقوام متحدہ کی گاڑی پردستی بم حملے میں اقوام متحدہ کا اہل کار ہلاک اور پانچ شہری زخمی ہوئے تھے، بعد ازاں سیکورٹی اہل کاروں نے ریسکیو آپریشن کرکے علاقے کو کلیئر کیا۔

ادھر صوبے دایکندی میں سیکورٹی فورسز کی چوکی پر طالبان کے حملے میں 8 سیکیورٹی اہلکار ہلاک ہوگئے، جب کہ سیکورٹی فورسز کی جوابی کارروائی میں 20 طالبان بھی مارے گئے۔ دریں اثنا فرح صوبے میں فضائی حملے میں عام شہریوں کی ہلاکتوں کا بھی خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔

جبکہ افغانستان کے دیگر صوبوں میں طالبان اور فورسز کے درمیان جھڑپوں میں 29 افراد کی ہلاکتیں ہوئیں۔

امریکی صدر نے افغان طالبان سے دوبارہ مذاکرات کا عندیہ دے دیا

خیال رہے کہ افغانستان میں امن واستحکام کی خاطر امریکی صدر نے طالبان سے ایک مرتبہ پھر مذاکرات کا عمل دوبارہ شروع کرنے کا عندیہ دیا ہے، گزشتہ روز ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے دوبارہ مذاکرات کا ارادہ طالبان کی قید سے امریکی اور آسٹریلوی پروفیسرز کی رہائی کے نتیجے میں کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ افغان امن عمل میں امریکا اور طالبان کے وفود کے مابین متعدد ملاقاتوں کے بعد معاہدے کے نکات کو حتمی شکل دی جاچکی تھی، تاہم محض معاہدے پر دستخط سے پہلے افغانستان میں ایک امریکی فوجی کی ہلاکت کے بعد امریکی صدر نے ٹوئٹر پر طالبان سے تمام مذاکرات کو منسوخ کرنے کا اعلان کردیا تھا۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں