The news is by your side.

Advertisement

انسانی بنیادوں پر دی جانے والی امداد کافی نہیں، طالبان نے واضح کر دیا

کابل: طالبان نے دنیا پر واضح کر دیا ہے کہ انسانی بنیادوں پر دی جانے والی امداد کافی نہیں، عالمی برادری سے مطالبہ کرتے ہیں کہ منجمد اثاثوں کی بحالی کے لیے زور ڈالے۔

تفصیلات کے مطابق امارت اسلامی افغانستان کے مستقل نمائندے سہیل شاہین نے ٹوئٹ میں کہا ہے کہ طالبان حکومت غیر ملکی اداروں اور این جی اوز کے ساتھ مکمل تعاون کے لیے تیار ہے، عالمی برادری اعلان کر دہ امداد ضرورت مندوں میں تقسیم کرے۔

انھوں نے لکھا کہ موسم سرما قریب ہے، اس لیے اشد ضرورت ہے کہ بین الاقوامی برادری حال ہی میں اعلان کردہ تقریباً ایک بلین یورو (تقریباً 1.2 بلین ڈالر) کا امدادی پیکج ہنگامی بنیادوں پر افغانستان کے غریبوں، مسحقین اور بے گھر افراد میں تقسیم کرے، جس کا وعدہ ورچوئل جی 20 اجلاس سربراہی اجلاس میں کیا گیا تھا۔

سہیل شاہین نے کہا کہ انسانی بنیادوں پر دی جانے والی امداد افغانستان میں آنے والی قحط سالی، نقل مکانی، اور انسانی بحران کے حوالے سے ہماری مشترکہ اور باہمی ذمہ داری کو ختم نہیں کر سکتی۔

انھوں نے کہا ہم بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ افغان عوام کے تقریباً 10 بلین ڈالر کے اثاثوں کو غیر منجمد کر کے افغانستان کی مدد کرے، اور جنیوا کانفرنس 2020 میں بین الاقوامی برادری کی جانب سے افغانستان کے لیے اعلان کردہ ترقیاتی امداد اور منصوبوں کو دوبارہ شروع کرے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں