The news is by your side.

Advertisement

سابق افغان صدر کا طالبان قیادت سے رابطہ، افغانستان کے مستقبل ‏پر گفتگو

کابل: سابق افغان صدر حامد کرزئی اور افغان مفاہمتی کاؤنسل کے سربراہ عبداللہ عبداللہ نے طالبان قیادت سے رابطے شروع کردئیے ہیں۔

افغان میڈیا کے مطابق سابق افغان صدر حامد کرزئی اور افغان مفاہمتی کاؤنسل کے سربراہ عبداللہ عبداللہ نے کابل میں طالبان رہنما انس حقانی سے ملاقات کی، ملاقات میں افغانستان کے مستقبل کے حوالے سے گفتگو کی گئی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق حامد کرزئی جلد دوحا میں طالبان قیادت سے مذاکرات کریں گے،سابق افغان صدر کو عبداللہ عبداللہ اور حزب اسلامی کے سربراہ گلبدین حکمت یار کی معاونت بھی حاصل ہوگی، اس ملاقات میں بھی افغانستان میں آئندہ کے حکومتی ڈھانچے اور سیاسی نظام سے متعلق بات چیت کی جائے گی۔

دوسری جانب طالبان رہنماؤں نے کابل میں سکھوں کے گردوارے کا دورہ کیا، اس موقع پر طالبان نے ہر مذہب کے ماننے والوں کو مکمل تحفظ کا یقین دلاتے ہوئے کہا کہ اسلامی قوانین کے تحت ہر کسی کا تحفظ کیا جائے گا، کسی کو افغانستان چھوڑنے کی ضرورت نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیں: امراللہ صالح کا افغانستان کا قائم مقام صدر ہونے کا دعویٰ

ملاقات میں سکھ رہنماؤں کا کہنا تھا ہمیں کسی قسم کی کوئی مشکل درپیش نہیں بلاخوف و خطر کابل میں بازار جاسکتے ہیں۔

ادھر امریکا سمیت مختلف ممالک کے شہریوں کا افغانستان سے انخلا جاری ہےمامریکا کا کہنا ہے کہ اب تک تین ہزار سے زیادہ شہری اور عملے کو افغانستان سے باہر بھیج چکے ہیں، امریکی فوج نے گزشتہ روز گیارہ سو امریکیوں، امریکا کے مستقل رہائشیوں اور ان کے خاندانوں کو افغانستان سے نکالا۔

وائٹ ہاؤس کے مطابق طالبان نے کہا ہے کہ کابل ایئر پورٹ جانے والے عام شہریوں کو روکا نہیں جائے گا، جرمنی نے بھی کابل سے ایک سو پچیس افراد کو نکال لیا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں