کابل(19 فروری 2026): افغانستان میں طالبان حکومت نے ایک نیا فوجداری ضابطہ نافذ کیا ہے جسے سپریم لیڈر ہیبت اللہ اخوندزادہ کی منظوری حاصل ہو گئی ہے۔
90 صفحات پر مشتمل اس نئے قانون کے تحت 2009 میں سابقہ حکومت کے دور میں بنایا گیا خواتین کے خلاف تشدد کے خاتمے کا قانون منسوخ کر دیا گیا ہے اور خواتین، بچوں پر مشروط گھریلو تشدد کو قانونی طور پر جائز قرار دیدیا۔
طالبان حکومت کے نئے ضابطے کے مطابق شوہر کو اپنی بیوی اور بچوں پر جسمانی تشدد کی مشروط اجازت دی گئی ہے۔ قانون کے تحت ایسا تشدد جائز قرار دیا گیا ہے جس سے جسم کی ہڈی نہ ٹوٹے یا کوئی کھلا زخم نہ آئے۔
اگر تشدد اس حد تک شدید ہو کہ اس سے ہڈی ٹوٹ جائے یا واضح فریکچر ہو، تو ایسی صورت میں شوہر کو زیادہ سے زیادہ 15 دن قید کی سزا دی جا سکتی ہے۔
متاثرہ خاتون کے لیے عدالت میں تشدد ثابت کرنے کی شرائط بھی بتائی گئی ہے جس کے مطابق خاتون کو مکمل پردے میں رہتے ہوئے جج کو اپنے زخم دکھانے ہوں گے۔
متاثرہ خاتون کو عدالت میں تشدد ثابت کرنے کے لیے اپنے زخم جج کو دکھانے ہوں گے، جو مکمل پردے میں ہونے چاہییں، اور عدالت میں شوہر یا کسی مرد سرپرست کی موجودگی لازمی ہے۔
اس کے علاوہ، اگر کوئی شادی شدہ خاتون شوہر کی اجازت کے بغیر اپنے رشتہ داروں سے ملنے جائے تو اسے تین ماہ تک قید کی سزا دی جا سکتی ہے۔
ضابطے کے آرٹیکل 9 کے تحت افغان معاشرے کو چار طبقات میں تقسیم کیا گیا ہے، علماء (مذہبی علما)، اشرافیہ (جیسے قبائلی سردار اور تاجر)، متوسط طبقہ، اور نچلا طبقہ۔ ایک ہی جرم کی سزا ملزم کی سماجی حیثیت پر منحصر ہوگی، نہ کہ جرم کی نوعیت پر جبکہ سنگین جرائم میں جسمانی سزائیں دینے کا اختیار اصلاحی اداروں کے بجائے مذہبی علماء کے پاس ہوگا۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


