site
stats
عالمی خبریں

افغانستان میں مزیدفوج بھیجنا امریکا کیلئے تباہ کن ہوگا، طالبان کا صدرڈونلڈ ٹرمپ کے نام خط

trump

واشنگٹن : افغان طالبان نے امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کے نام کھلے خط میں امریکا کو خبردار کرتے ہوئے افغانستان سے نکل جانے کا مطالبہ دہرایا اور کہا افغانستان میں مزید فوجی بھیجنا امریکا کیلئے تباہ کن ثابت ہوگا۔

غیرملکی خبرایجنسی کے مطابق امریکی صدرٹرمپ کے نام خط میں طالبان کا کہنا ہے کہ ماضی میں مزید فوجی افغانستان بھیجنے کا کوئی فائدہ نہیں ہوا بلکہ امریکا کوفوجی اوراقتصادی نقصان کا سامنا کرنا پڑا، افغانستان سے انخلا سے سولہ سو امریکی فوجی دستوں کو نجات ملے گی اوروراثتی جنگ کا خاتمہ ہوگا۔

خط میں طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے افغان حکومت کو کٹھ پتلی اورحکمرانوں کو کرپٹ قرار دیا اور امریکہ سے افغانستان سے نکل جانے کا مطالبہ دہرایا ہیں۔

طالبان نے ٹرمپ کو خبردار کیا ہے کہ وہ سابق صدور کو اپنے جنرلوں کی جانب سے پیش کی جانے والی غیر حقیقی رپورٹوں پر انحصار نہ کریں کیونکہ افغانستان پر قبضے اور جنگ جاری رکھنے پر اس لئے زور دیتے رہیں گے کہ وہ بہتر پوزیشن حاصل کر سکیں اور جنگ کا استحقاق حاصل کر سکیں۔

خط میں طالبان کا کہنا تھا کہ ڈونلڈ اپنی افواج کے افغانستان میں موجودگی پر بضد رہے تو شرمناک شکست کا سامنا ہوگا۔


مزید پڑھیں : ٹرمپ نےافغانستان میں امریکی فوج کی تعداد بڑھانے کی اجازت دے دی


خیال رہے کہ افغانستان میں سینئر امریکی کمانڈر نے ہزاروں اضافی فوجی اہلکار افغانستان بھیجنے کی درخواست کی تھی۔

یاد رہے کہ امریکی وزیر دفاع جیمز میٹس نے رواں برس جولائی میں کہا تھا کہ افغانستان کے لئے ٹرمپ انتظامیہ کی نئی حکمت عملی پورے خطے کے لئے ہے، جس میں پاکستان بھی شامل ہے۔

واضح رہے  رہے ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر حملے کے بعد امریکا کی جانب سے افغانستان پر فوجی چڑھائی کی گئی تھی، 17 سال سے امریکی اور نیٹو فوجیافغانستان میں تعینات ہیں اور وہ مقامی فوجیوں کے ساتھ مل کر افغانستان میں کام کررہے ہیں، 2001 سے اب تک افغانستان میں 2300 امریکی ہلاک جبکہ 17000 زخمی ہوچکے ہیں۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top