The news is by your side.

طالبان حکومت میں پہلی چودہ افغان شہریوں کو کوڑوں کی سزا

افغانستان کے صوبے لوگر میں تین خواتین اور گیارہ مردوں کو طالبان کی ایک عدالت کی جانب سے سزا ملنے کے بعد ہزاروں لوگوں کے سامنے کوڑے لگائے گئے ہیں۔

افغانی میڈیا کے مطابق افغانستان کے لوگر صوبے میں تین خواتین اور گیارہ مردوں کو طالبان کی ایک عدالت کی جانب سے سزا ملنے کے بعد صوبے کے صدر مقام پل عالم شہر کے فٹبال اسٹیڈیم میں ہزاروں لوگوں کے سامنے کوڑے مارے گئے۔

مقامی میڈیا کی اطلاعات کے مطابق اس سزا پر عملدرآمد کے دوران صحافیوں کو ویڈیوز اور تصاویر لینے کی اجازت نہیں تھی، لوگر میں طالبان حکومت کے صوبائی عہدیداروں نے میڈیا کو بتایا کہ ان افراد کی سزا کا تعین لوگر کی اپیل کورٹ نے کیا ہے۔

صوبائی عہدیداروں کا کہنا تھا کہ ’ان لوگوں کو چوری، ناجائز تعلقات اور گھر سے بھاگنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا‘ان کی عمریں 21 سے 39 سال کے درمیان تھیں۔

طالبان حکومت کی سپریم کورٹ نے بھی الگ الگ اخبارات میں اعلان کیا ہے کہ گذشتہ دو ہفتوں میں لغمان، تخار اور بامیان صوبوں میں 11 خواتین اور 12 مردوں کو سرعام  کوڑے مارے گئے ہیں۔

خبر رساں ادارے کے مطابق طالبان سپریم لیڈر ہبت اللہ اخوندزادہ نے رواں ماہ ججوں کو حکم دیا کہ وہ اسلامی قانون کے ان پہلوؤں کو مکمل طور پر نافذ کریں۔

اسلامی قانون میں سرعام پھانسی، سنگساری، کوڑے اور چوروں کے اعضا کاٹنا شامل ہیں نیز یہ پہلا موقع ہے کہ حکام نے عدالت کی طرف سے دی گئی اس طرح کی سزا کی تصدیق کی ہے۔

دوسری جانب اقوام متحدہ نے افغانستان میں لڑکیوں کی تعلیم پر پابندیوں کے ساتھ ساتھ بنیادی سکیورٹی میں کمی پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ افغانستان میں اقتصادی بحران کے گہرے ہونے کے ساتھ، مزید عدم تحفظ، غربت اور علیحدگی کے آثار ہیں

Comments

یہ بھی پڑھیں