چار سال قبل قید ہونے والے کینیڈین جوڑے کی ویڈیو جاری ARY News
The news is by your side.

Advertisement

چار سال قبل اغوا ہونے والے کینیڈین جوڑے کی ویڈیو جاری

کابل: تحریک طالبان نے 2012 میں سیاحتی دورے کے لیے افغانستان آنے والے کینیڈین جوڑے کی قید کے چار سال گزرنے کے بعد ویڈیو جاری کردی، جس میں دوران یرغمال پیدا ہونے والے دو بچوں کو بھی دکھایا گیا ہے، جوڑے نے ٹرمپ سے مدد کی اپیل کردی۔

تفصیلات کے مطابق افغانستان میں تحریک طالبان کی جانب سے ایک ویڈیو فوٹیج جاری کی گئی ہے جس میں یرغمال بنائے گئے ایک کینیڈین جوڑے کے دوران حراست پیدا ہونے والےدو بچوں کو بھی دکھایا گیا ہے، یہ دونوں بچے طالبان ہی کی قید میں پیدا ہوئے اور اب پروان چڑھ رہے ہیں۔

ویڈیو فوٹیج میں طالبان کے ہاتھوں چار سال سے یرغمال رہنے والی خاتون نے امریکا اور کنیڈا کی حکومت پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’ہم اپنی قید کے حوالے سے دونوں حکومتوں کے خاموش رویے پر اُن سے نفرت کرتے ہیں کیونکہ دونوں ممالک کی حکومتیں ہمارے اہل خانہ کو نظر انداز کر کے مشکلات میں اضافہ کررہی ہیں‘‘۔


پڑھیں : امریکہ طالبان کو ختم نہیں کرسکتا،اوباما


کولمن نے ویڈیو میں اس امید کا اظہار کیا کہ ’’کنیڈا اور امریکا کی حکومتیں اغواء کاروں کی طرف سے ہمارے ساتھ اپنائی جانے والی انتقامی پالیسی کو سمجھتے ہوئے اقدامات کریں گی، انہوں نے نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر زور دیا کہ وہ اُن کے خاندان کی رہائی کے لیے مؤثر کوششیں کریں‘‘۔

ویڈیو کے لیے اسکرول نیچے کریں

ویڈیو فوٹیج میں دورانِ قید پیدا ہونے والے 2 بچوں کو بھی دکھایا گیا ہے جس میں دونوں کی حالت بہتر لگ رہی ہے اور دونوں بچے اپنے والد کی گود میں بیھٹے ہیں تاہم ان کی والدہ کئی سال کی مصیبتوں کے بارے میں بات کر رہی ہیں۔


مزید پڑھیں: ’’ نومنتخب امریکی صدر افغانستان سے اپنی افواج واپس بلائیں، طالبان ‘‘


دوسری جانب طالبان رہنماؤں نےغیرملکی خبررساں ادارے سے بات کرتے ہوئے کینڈین فیملی کی ویڈیو فوٹیج جاری کرنے کی تصدیق کی، انہوں نے امریکا کو پیغام دیا کہ ’’ہم افغانستان میں امریکا کی حمایت یافتہ حکومت کا تختہ الٹنا چاہتے ہیں جس کے لیے جدوجہد کررہے ہیں‘‘۔

حقانی نیٹ ورک کی طرف سے جاری کردہ فوٹیج میں امریکا اور کینیڈا کے حکام کو ارسال کردہ ایک دستاویز بھی دکھائی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ فوٹیج کو انٹرنیٹ پر پوسٹ کرنے سے قبل امریکا اور کینیڈا کو بھی ارسال کیا گیا ہے۔ حقانی نیٹ ورک کی طرف سے افغان حکومت کے زیرحراست تین طالبان جنگجوؤں کی رہائی کا مطالبہ کیا گیا۔

خیال رہے کہ سنہ 2014ء میں افغان حکومت نے حقانی نیٹ ورک کے بانی جلال الدین حقانی کے بیٹے انس حقانی سمیت متعدد اہم جنگجوؤں کو حراست میں لے رکھا ہے۔ حقانی نیٹ ورک پر افغانستان میں امریکی اور دوسری غیرملکی فوجوں پر حملوں کا الزام عاید کیا جاتا رہاہے۔

علاوہ ازیں کینیڈین حکومت کے ترجمان کا کہنا ہے کہ وہ طالبان کی پوسٹ کردہ فوٹیج کا جائزہ لے رہے ہیں تاہم امریکی حکومت کی طرف سے اس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔

واضح رہےکہ کینیڈین گوشوا بویل اور ان کی 31 سالہ امریکی اہلیہ کائٹلان کولمن کو طالبان نے سنہ 2012ء میں اس وقت اغواء کرلیا تھا جب وہ سیاحتی دورے پر افغانستان میں آئے تھے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں