The news is by your side.

Advertisement

پاکستان آئندہ کی افغان حکومت سے ٹی ٹی پی کے خلاف سخت ایکشن کا مطالبہ کرے گا

اسلام آباد: ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان آئندہ کی افغان حکومت سے تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے خلاف سخت ایکشن کا مطالبہ کرے گا۔

تفصیلات کے مطابق دفتر خارجہ کے ترجمان زاہد حفیظ نے میڈیا بریفنگ میں کہا ہے کہ ٹی ٹی پی دہشت گرد اور کالعدم تنظیم ہے، اس تنظیم پر پاکستان اور اقوام متحدہ نے پابندی لگائی ہے، پاکستان کے خلاف افغان سرزمین استعمال کرنے پر ٹی ٹی پی کے خلاف کارروائی کی جانی چاہیے۔

ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان نے ہمیشہ افغان مسئلے کے سیاسی حل کا مطالبہ کیا، ہم افغانستان میں پرامن انتقال اقتدار کے حامی ہیں، اس دوران افغانستان میں بڑے پیمانے پر تشدد نہیں پھیلا، زیادہ پرتشدد کارروائیاں دیکھنے کو نہیں ملیں، صورت حال کا جائزہ لے رہے ہیں، وزیر اعظم بھی مختلف ممالک کے رہنماؤں سے رابطے میں ہیں۔

انھوں نے کہا افغان سرزمین کو دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونے دینا چاہیے، ہم مسئلے کے حل کے لیے انٹرا افغان مذاکرات کے خواہاں ہیں، پاکستان عالمی برادری کے ساتھ افغانستان کے مستقبل پر مشاورت کے لیے رابطے میں ہے۔

واضح رہے کہ کابل میں پاکستان کا سفارت خانہ بھی کھلا ہے جو عالمی اداروں کو سروسز فراہم کر رہا ہے، آج پی آئی اے کے ذریعے 400 غیر ملکی سفارت کاروں اور دیگر اہل کاروں کا افغانستان سے انخلا عمل میں آیا۔

دوسری طرف ترجمان طالبان سہیل شاہین نے واضح کیا ہے کہ افغانستان دہشت گردوں کی آماجگاہ نہیں بنے گا، پہلے ہی کہہ چکے ہیں اپنی سرزمین کسی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے، جو کہتا ہے یہاں دہشت گرد ہیں تو بتائیں کہاں ہیں، ہمیں ثبوت دیں، ہم کارروائی کریں گے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں