The news is by your side.

Advertisement

ملا عمر کی موت طبعی تھی، بیٹے کا بیان

افغان طالبان کے بانی ملا عمر کے بیٹےنے ان کی ہلاکت کے بارے میں پھیلنے والے شکوک و شبہات کی تردید کردی جو کہ قیادت کے تنازعے کے سبب بنے ہوئے تھے۔

واضح رہے کہ ملا عمر کی موت کے بعد طالبان رہنماوٗں میں خلیج کے سبب نہ صرف افغان حکومت اور طالبان کے درمیان جاری مفاہمتی عمل کو نقصان پہنچا بلکہ طالبان کی حریف جماعت داعش کو بھی افغانستان میں قدم جمانے کا موقع ملا۔

جولائی 2015 میں افغان انٹلی جنس کی جانب سے ملا عمر کی موت کی خبرجاری کرنے کے اگلے دن طالبان نے خبر کی تصدیق کی تھی اور عجلت میں ان کے نائب ملا منصور کا افغان طالبان کا امیر مقررکرلیا تھا۔

طالبان کے کئی کمانڈر اور ملا عمر کے خاندان کے کئی افراد اس تقرری سے خوش نہیں تھے اوراس سلسلے میں ان کے بیٹے ملا محمد یعقوب نے گزشتہ رات ایک آڈیو پیغام بھی جاری کیا ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ سب سے پہلے تو وہ یہ وضاحت کردیں کہ ان کے والد ملا عمر کی موت طبعی تھی‘‘۔

ملا یعقوب نے آڈیو ٹیپ میں کہا کہ ’’وہ (ملاعمر) کچھ عرصے سے بیمار تھے لیکن پھر ان کی حالت بگڑ گئی، جب ڈاکٹروں سے معلوم کیا تو انکشاف ہوا کہ وہ کالے یرقان میں مبتلا ہیں ‘‘۔

ان کے بیٹےکے مطابق ملاعمر افغانستان میں ہی رہے اوروہیں ان کی موت ہوئی اور وہیں ان کی تدفین بھی کی گئی۔

ملا یعقوب کی جانب سے جاری کردہ یہ پہلا آڈیو بیان تھا اور اس میں انہوں نے ملا منصور کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ’’ میرے والد ملا عمرنے کسی کو اپنا جانشین مقرر نہیں کیا تھا‘‘۔

ملا یعقوب 27، کا کہناتھا کہ اگر ان کی موت سے طالبان کا اتحاد دوبارہ قائم ہوسکتا ہے تو وہ خودکشی کے لئے تیار ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ شوریٰ کے ہر فیصلے کو تسلیم کرتے ہیں اور کسی بھی عہدے پر کام کرنے کے لئے تیار ہیں چاہے وہ اعلیٰ انتظامی عہدہ ہو یا نچلے درجے کا کوئی عہدہ ہو۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں