The news is by your side.

Advertisement

حکومت اور دھرنا مظاہرین کے درمیان مذاکرات کامیاب، ورثا نے شہدا کے تدفین کی اجازت دے دی

کوئٹہ: ہزارہ برادری کے دھرنے میں منتظمین سے حکومتی ٹیم کے مذاکرات کامیاب ہو گئے ہیں، دھرنے میں شریک شہدا کے ورثا نے تدفین کی اجازت دے دی، منتظمین نے پورے ملک میں دھرنے ختم کرنے کا اعلان کر دیا۔

تفصیلات کے مطابق حکومتی وفد اور مظاہرین کے درمیان مذاکرات میں دھرنے میں شریک شہدا کے ورثا نے تدفین کی اجازت دے دی ہے، حکومتی ارکان اور لواحقین نے تحریری معاہدے کو حتمی شکل دے دی۔

 حکومتی وفد کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم ہزارہ برادری سے کیا ہوا ہر وعدہ پورا کریں گے۔ شہدا کے لواحقین نے کہا ہے کہ ہم چاہتے ہیں وزیر اعظم آ کر مظلوموں کے سر پر شفقت کا ہاتھ رکھیں۔

مذاکرات وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال اور شہدا کمیٹی کے درمیان ہوئے، جس میں قاسم سوری اور وفاقی وزیر علی زیدی اور زلفی بخاری بھی شریک تھے، جب کہ شہدا لواحقین کمیٹی کی طرف سے آغا رضا، علامہ حسنین اور دیگر مذاکرات میں موجود تھے۔

لواحقین تدفین کریں، گارنٹی دیتا ہوں آج ہی کوئٹہ آؤں گا، وزیراعظم

دھرنا منتظمین نے کہا کہ ہمارے مطالبات مان لیےگئے ہیں، حکومت کے ساتھ مذاکرات کامیاب ہوگئے، وزیر اعظم، وزیر اعلیٰ بلوچستان اور وفاقی وزرا کے شکر گزار ہیں۔

وزیر اعلیٰ بلوچستان نے مذاکرات کے بعد خطاب میں کہا کہ وزیر اعظم عمران خان لواحقین کے پاس آئیں گے اور ان کے مسائل سنیں گے، آرمی چیف بھی جلد ہزارہ برادری سے ملاقات کریں گے، اور بلوچستان میں سیکورٹی کی بہتری کے لیے اقدامات سے آگاہ کریں گے۔

انھوں نے کہا کہ انصاف فراہم کرنا معاشرے کے بنیادی اصولوں میں شامل ہے، چیزوں کو مزید بہتر کرنے کی کوشش کریں گے، میں اعلان کرتا ہوں کہ ہزارہ برادری کے مسائل حل کریں گے، جہاں غفلت ہو اس جگہ کی نشان دہی ہونی چاہیے تاکہ مسائل نہ ہوں۔

ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری نے کہا کہ پورے ملک میں دھرنے ختم کرنے کا اعلان کر دیا گیا ہے، شہدا کی تدفین ہوتے ہی وزیر اعظم اور آرمی چیف کوئٹہ روانہ ہوں گے۔

قبل ازیں ترجمان بلوچستان حکومت لیاقت شاہوانی کا کہنا تھا کہ  تدفین کا عمل مکمل ہوتے ہی وزیر اعظم کوئٹہ پہنچ جائیں گے، ہماری پہلی ترجیح ہے کہ میتوں کی تدفین ہو تاکہ تقدس پامال نہ ہو۔

Comments

یہ بھی پڑھیں