The news is by your side.

پاکستان کا آئی ایم ایف کی شرائط ماننے سے انکار، مذاکرات کا پہلا دور بے نتیجہ ختم

اسلام آباد: پاکستان کی جانب سے آئی ایم ایف کے بعض مطالبات تسلیم کرنے سے انکار کے بعد مذاکرات کا پہلا دور بے نتیجہ ختم ہوگیا.

تفصیلات کے مطابق پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان جاری مذاکرات میں ڈیڈ لاک پیدا ہوگیا، دو ہفتے سے جاری مذاکرات میں آئی ایم ایف کی جانب سے سخت شرائط سامنے آئیں، جنھیں پاکستان نے ماننے سے انکار کر دیا.

آئی ایم ایف نے قرض کے بدلے سی پیک منصوبوں کی تفصیل اور شرائط مانگی ہیں، ساتھ ہی بجلی اور گیس کی قیمت میں بیس فی صد اضافے کا بھی مطالبہ کیا.

آئی ایم ایف وفد نے یہ مطالبہ بھی کیا کہ ڈالرکی قدرکے تعین میں حکومت کاعمل دخل نہ ہو، ساتھ ہی محصولات کاہدف چارہزار سات سو ارب ہونا چاہیے۔

مزید پڑھیں: نیا بیل آؤٹ پیکج: آئی ایم ایف کا مالیاتی اور جاری خسارہ کم کرنے پر زور

ذرائع وزارت خزانہ نے آئی ایم ایف سے مذاکرات بے نتیجہ رہنے کی تصدیق کی ہے، اب آئی ایم ایف کا وفد پندرہ جنوری کے بعد دوبارہ پاکستان کا دورہ کرے گا.

ذرائع کے مطابق پاکستان نے چین سے معاہدوں کی تفصیلات فراہم کرنے سے معذوری ظاہر کرتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ ہم چند ریڈ لائنز عبور نہیں کرسکتے.

وزیر خزانہ اسد عمر کی بریفنگ


آئی ایم ایف وفدکے دورہ پاکستان کےاختتام پر وزیرخزانہ نے وزیراعظم کوبریفنگ دی۔

اس موقع پر اسد عمر کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف سےاب تک ہونےوالی پیش رفت حوصلہ افزاہے ، عوامی مفادات ،حکومتی وژن کےتحت آئی ایم ایف سےمعاملہ طےہوگا۔

انھوں نے کہا کہ آئی ایم ایف سےمعاملات کاہماری معیشت پرفوری دباؤنہیں، وفدکی جانب سے پاکستان کی ترجیحات کاادراک کرناحوصلہ افزاہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں