The news is by your side.

Advertisement

بھارتی پاور پراجیکٹس پر اعتراضات

لاہور: نئی دہلی میں پاک بھارت آبی تنازعات پر مذاکرات کے لیے پاکستانی وفد کل بھارت کے لیے روانہ ہوگا۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان اور بھارت کے درمیان آبی مذاکرات 23 اور 24 مارچ کو نئی دہلی میں ہوں گے، پاکستانی وفد کل روانہ ہوگا۔

پاکستانی وفد کی نمائندگی انڈس واٹر کمشنر مہر علی شاہ کریں گے، جب کہ بھارت کی نمائندگی بھارتی واٹر کمشنر پردیپ کمار سکسینہ کریں گے۔ 2018 میں پاک بھارت آبی مذاکرات لاہور میں ہوئے تھے، سندھ طاس معاہدے کے تحت ہر سال آبی مذاکرات ضروری ہیں۔

انڈس واٹر کمیشن کے حکام کا کہنا ہے کہ مذاکرات میں پاکستان متنازعہ آبی منصوبوں پر اعتراضات اٹھائے گا، پاکستان کو رتلے پکل، ڈل چلی کانگ پاور پراجیکٹس پر تحفظات ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ مذاکرات میں بھارت سے سیلاب اور مون سون بارشوں کا پیشگی ڈیٹا شیئرنگ پر بھی بات ہوگی۔

بھارت کی آبی دہشت گردی، زہریلا پانی چھوڑنے سے ہزاروں مچھلیاں مرگئیں

واضح رہے کہ ایک طرف پڑوسی ملک بھارت پاکستان آنے والے دریاؤں پر ڈیم بنا کر عالمی معاہدے کی خلاف ورزی کرتا رہا ہے، دوسری طرف ہر سال آبی دہشت گردی کا بھی مرتکب ہوتا ہے۔

رواں برس جنوری میں بھی دریائے ستلج ہیڈ سلیمانکی کے مقام پر بھارت نے زہریلا پانی چھوڑا تھا جس سے پنجاب میں منچن آباد میں دریائے ستلج میں ہزاروں مچھلیاں مرگئی تھیں، زہریلے پانی سے متاثرہ یہ مچھلیاں بہاولنگر، لاہور اور دیگر شہروں میں سپلائی کی گئی تھیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں