site
stats
دہشت گردی

تانیہ قتل کیس، ملزمان کا اعتراف، آلہ قتل برآمد، فرانزک رپورٹ مثبت

کراچی : تانیہ قتل کیس کے مرکزی ملزم خان محمد نوحانی اور دو ساتھیوں نے قتل کی واردات کا اعتراف کرتے ہوئے تمام تفصیلات پولیس کو بتا دیں، آلہ قتل بھی برآمد کر لیا گیا ہے فرانزک رپورٹ میں اسلحہ اور گولیوں کے خول میچ کر گئے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق سندھ ہائی کورٹ کے حکم پر تشکیل دی گئی پولیس کمیٹی نے قتل کی ہولناک واردات کی وجوہات اور ملزمان کے خلاف شواہد جمع کر لیے ہیں جب کہ ملزمان سے بھی اعترافی بیان لے لیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق تانیہ قتل کیس کی تحقیقات کے لیے آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ کی جانب سے بنائی گئی جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم نے تفتیش مکمل کر کے مرکزی ملزم خان محمد نوحانی اور اس کے دو ساتھی علی نوحانی و مولا بخش کے اعترافی بیان بھی قلم بند کر لیے ہیں۔

پولیس رپورٹ کے مطابق مرکزی ملزم خان نوحانی نے قتل کا اعتراف کرتے ہوئے بتایا کہ تانیہ سے ایک ماہ سے تعلقات خراب تھے اور دونوں کی تلخ کلامی بھی ہوئی تھی تاہم جب تانیہ نے رشتہ سے انکار کیا تو مجھ سے برداشت نہیں ہوا اور اسے فائرنگ کر کے قتل کردیا۔


  یہ پڑھیں : شادی سے انکار پر 19 سالہ لڑکی کو قتل کرنے والا مرکزی ملزم گرفتار


پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ فرانزک لیبارٹری ٹیسٹ میں پستول اور موقع سے ملنے والے گولی کے خول میچ کرگئے ہیں جب کہ ملزمان نے بھی اعتراف جرم کرلیا ہے اور آلہ جرم بھی تحویل میں لے لیا گیا ہے اور تین چشم دید گواہ بھی دستیاب ہیں جس کے بعد پولیس نے انسداد دہشت گردی عدالت کو ملزمان کا 164 کے بیان کے لیے خط لکھ دیا ہے۔

یاد رہے کہ 7 ستمبر کو سیہون کے علاقے میں وڈیرے خان نوحانی نے شادی سے انکار پر تانیہ کوگولی مار کر قتل کردیا تھا، قتل کی لرزہ خیز واردات کی باز گشت میڈیا پر گونجی تو ارباب اختیار و اقتدار نے اس جانب توجہ مرکوز کی اور سندھ ہائیکورٹ نے آئی جی سندھ کو خود کیس کی انکوائری کا حکم دیا۔

خیال رہے کہ سندھ ہائی کورٹ کے حکم پر آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ کی جانب سے بنائی گئی جے آئی ٹی کے سربراہ ایڈیشنل آئی جی سندھ آفتاب پٹھان ہیں جنہوں نے قتل کے معمے کو حل کرکے حتمی رپورٹ تیار کرلی ہے جس میں تینوں ملزمان کے اعترافی بیانات بھی شامل ہیں۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top