منگل, اگست 18, 2026
اشتہار

تنویر عباسی: سندھی ادب کا ایک معتبر نام

اشتہار

حیرت انگیز

ڈاکٹر تنویر عباسی کا نام سندھی زبان و ادب میں‌ ان کے علمی و تحقیقی کام کی بدولت نمایاں ہے۔ انھیں ایک بیدار مغز اور باشعور قلم کار کے طور پر شناخت کیا جاتا ہے۔ مشہور صوفی شاعر شاہ عبدُاللطیف بھٹائی پر ان کی تحقیق اور تنقیدی کتابوں نے انھیں‌ سندھی ادب میں پہچان اور شناخت دی۔

سندھی زبان و ادب کے حوالے سے یوں تو کئی نام لیے جاسکتے ہیں‌ جنھوں نے اپنی تخلیقی صلاحیتوں اور علمی و تحقیقی استعداد سے کام لے کر اس زبان کے ادب کو مالا مال کیا۔ ان میں شیخ ایاز، عمر بن محمد داؤد پوتہ، علامہ آئی آئی قاضی، حسام الدین راشدی، نبی بخش خان بلوچ، محمد ابراہیم جویو، استاد بخاری وغیرہ شامل ہیں جن کی تصانیف سندھی ادب کا سرمایہ ہیں۔ تنویر عباسی بھی انہی کے نقشِ قدم پر چلے اور سندھی ادب کے ساتھ ساتھ انھوں‌ نے سیاست اور عوامی حقوق کی جدوجہد میں بھی اپنا حصہ ڈالا۔ ڈاکٹر تنویر عباسی کا شمار ان لوگوں‌ میں ہوتا ہے جو ون یونٹ توڑ تحریک میں پیش پیش رہے۔ انھوں نے پھول باغ میں بڑا جلسہ بھی منعقد کروایا تھا جس میں جی ایم سید، کامریڈ حیدر بخش جتوئی، کامریڈ جام ساقی اور سندھ بھر سے سیکڑوں شخصیات کو مدعو کیا گیا تھا۔ 25 نومبر 1999ء کو ڈاکٹر تنویر عباسی وفات پاگئے تھے۔ وہ شاعر، محقّق اور ڈرامہ نگار بھی تھے۔

تنویر عباسی 7 اکتوبر 1934ء کو گوٹھ سوبھوڈیرو، ضلع خیرپور میرس میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام نورُ النّبی تھا۔ انھوں نے اپنے علمی ذوق و شوق اور مطالعے کے ساتھ تحقیقی مضامین اور شاہ لطیف کی شاعری پر خصوصی تحریریں یادگار چھوڑیں۔ تنویر عبّاسی کی تصانیف میں تنویر چئے (شاعری) ھئ دھرتی (شاعری)، ترورا (مضامین)، نانک یوسف جو کلام (تنقید)، کلام خوش خیر محمد ہیسباٹی (تنقید)، سج تری ہیٹھاں (شاعری)، شاہ لطیف جی شاعری (لطیفیات)، بارانا بول (بچوں کا ادب) جے ماریانہ موت (ناول) شامل ہیں۔

بعد از مرگ تنویر عباسی کے لیے صدارتی تمغا برائے حسنِ کارکردگی کا اعلان کیا گیا تھا۔ تنویر عبّاسی اسلام آباد کے مرکزی قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں