The news is by your side.

Advertisement

تنزانیہ کے صدر نے اپنے وزیر کو شراب نوشی پر وزارت سے فارغ کردیا

ڈوڈوما: تنزانیہ کے صدر نے اپنے وزیر داخلہ کو شراب پی کر پارلیمنٹ میں آنے اور نشے کی حالت میں اسمبلی سیشن کی انجام دہی پر وزارت سے برخاست کردیا۔

تفصیلات کے مطابق نومبر میں منتخب ہونے والے صدر جان مگوفولی ملک کو کرپشن سے پاک کرنے میں کافی متحرک نظر آتے ہیں،چند ہی ماہ میں انہوں نے کئی سرکاری افسران کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا ہے،اورغیرضروری اخراجات کو کنٹرول کرنے کے لیے کئی اقدامات انجام دیے۔

صدر کا عہدہ سنبھالنے کے بعد‌ صدر نے سب سے پہلے “چارلس کٹوانگا” کو برخاست کیا ہے،چارلس کی کابینہ سے علیحدگی کسی سرپرائز سے کم نہ تھی کیونکہ یہ وہ وزیر تھے جنہیں صدر کے سب سے قریب سمجھا جاتا تھا۔

تنزانیہ کے صدارتی ترجمان نے ’’چارلس کٹ وانگا ‘‘ کی برطرفی کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ کے اجلاس میں سوال و جواب کے سیشن میں وزراتِ داخلہ کے اہم امور سے متعلق پالیسی بیان دیتے ہوئے وزیر موصوف شراب پیے ہوئے تھے۔

چارلس کٹ وانگا کو اس سے قبل بھی اراکین پارلیمنٹ کی جانب سے وزارتِ داخلہ کے امور کی انجام دہی پر تنقید کا سامناتھا، اس معاملے پر وزیر موصوف کی رائے لینے کے لیے رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی تاہم وہ دستیاب نہیں ہو سکے۔

کم معاشی ترقی رکھنے والے افریقی ممالک میں مععیشت کی ذبوں حالی کی بنیادی وجہ کرپشن ہے،جس کے خاتمے کے لیے صدر تنزانیہ نے اہم قدم اُٹھائے ہیں دوسری جانب ترقی کی جانب جاری سفر میں تیزی لانے کے لیے قدرتی گیس کے ذخائر کی تلاش بھی جا ری ہے۔

صدر مگو فولی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ کرپشن کے خاتمے کے ساتھ ساتھ سول سروس اور عوامی اداروں میں مربوط نظام مرتب کر رہے ہیں،جس سے عوام الناس اداروں میں جلد تبدیلی محسوس کریں گے

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں