The news is by your side.

Advertisement

تارا میرا: پکوان سے علاج تک نہایت مفید

جَو یا چنے کے ساتھ بویا جانے والا ایک قسم کا پودا جو عموماً ڈیڑھ دو ہاتھ اونچا ہوتا ہے، ہندوستان میں‌ تارا میرا کے نام سے پہچانا جاتا ہے۔

تارا میرا کے پھل کا سائز 2.5 سینٹی میٹر ہوتا ہے اور اس کے پتے مولی کی طرح، مگر سائز میں چھوٹے ہوتے ہیں۔ اس کے بیج سے جو تیل نکلتا ہے، وہ اپنے خواص اور فوائد کی وجہ سے مشہور ہے۔ اس کے بیجوں سے 30 سے 35 فی صد تک روغن حاصل کیا جاسکتا ہے جو جلانے اور پکوان کے علاوہ جلد پر ملنے کے کام آتا ہے۔

اسے ترمرا بھی کہتے ہیں اور اس کا ساگ پنجاب میں بہت شوق سے کھایا جاتا ہے۔ سرسوں کے ساگ میں تارامیرا کا ساگ، پالک بتھوا ڈال کر پکایا جاتا ہے، جو اس کا ذائقہ بہتر بناتا ہے۔

تارا میرا کا تیل اپنی بُو اور تیزی کی وجہ سے اکثر حساس جلد والوں کو الرجی کا شکار کر سکتا ہے جب کہ اس کے بھیج کھانے سے خارش، کھجلی میں آرام آجاتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ درد میں‌ بھی آرام کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

تارا میرا کے پھول پیلے رنگ کے ہوتے ہیں۔ ذائقہ اس کا تیز ہوتا ہے۔ ساگ پکانے میں اس کے پھول بھی شامل کیے جاتے ہیں۔ تارا میرا کو مختلف پکوان اور اس کے بیجوں‌ یا اس کے روغن کو مختلف طریقوں سے استعمال کیا جاتا ہے جس میں لڈو یا پیڑے بنا کر کھانے، بیجوں کو کوٹ کر دودھ میں پکا کر، بیجوں کو پیس کر حاصل ہونے والا سفوف، دہی میں‌ ملانے کے علاوہ طبیب حضرات مختلف طریقے بتاتے ہیں۔

طبیب اور پرانے حکیم تارامیرا کی افادیت اور اس کے بیجوں کی خاصیت جانتے تھے اور اسے استعمال کرنے کے طریقوں سے بھی واقف تھے، لیکن اب سبزیوں، جڑی بوٹیوں، پھلوں جیسی قدرت کی نعمتوں سے علاج معالجے یا تکالیف دور کرنے کی کوشش کم ہی کی جاتی ہے، مگر زمانہ قدیم سے تارا میرا کے بیجوں‌ سے انسان فائدہ اٹھاتا آیا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں