سندھ طاس معاہدے میں کوئی تبدیلی قبول نہیں، طارق فاطمی -
The news is by your side.

Advertisement

سندھ طاس معاہدے میں کوئی تبدیلی قبول نہیں، طارق فاطمی

اسلام آباد : وزیر اعظم پاکستان کے معاون برائے خارجہ امور طارق فاطمی نے کہا ہے کہ پاکستان سندھ طاس معاہدے میں کوئی تبدیلی قبول نہیں کر ے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا اصولوں پر مبنی مؤقف معاہدے کے مطابق ہے اور سندھ طاس معاہدے پر اس کی روح کے مطابق عملدرآمد ہونا چاہئیے۔

یہ بات انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ یاد رہے کہ ورلڈ بینک کے صدر نے سندھ طاس معاہدے پر آبی تنازعے کے حل کے لیے غیر جانبدار ماہر یا چیئرمین عالمی ثالثی عدالت کی تقرری روکتے ہوئے پاکستان اوربھارت کو جنوری تک کی مہلت دی ہے۔

عالمی بینک کی جانب سے پاکستان اور بھارت کو آبی تنازعہ جنوری تک حل کرنے کی ہدایت پر بھارت کی جانب سے تفصیلی جواب میں کہا گیا ہے کہ وہ بھی پاکستان سے آبی تنازعہ پر دو طرفہ بات چیت کے لیے تیار ہیں۔

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق وزیر اعظم پاکستان کے معاون برائے خارجہ امور کابیان ایسے وقت آیا ہے جب جمعہ کو انڈیا نے سندھ طاس معاہدے پر پاکستان سے دو طرفہ مذاکرات کے لیے رضامندی ظاہر کی۔

اس حوالے سے بھارت کی وزارت خارجہ کے ترجمان وکاس سواروپ کا کہنا ہے کہ انڈیا ہمیشہ سندھ طاس معاہدے کے عملدرآمد پر یقین رکھتا ہے، جس میں تکنیکی سوالات اور اختلافات کا تدارک شامل ہے اور اس تنازع کو دو طرفہ بات چیت کے ذریعے ہی کرنا چاہیے۔

ترجمان نے کہا کہ مثالیں موجود ہیں جب 1978 میں سلال ہائیدرو الیکٹرک پروجیکٹ میں دونوں حکومتوں نے معاملات کو مذاکرات کے ذریعے کامیابی سے حل کیا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں