ہفتہ, جون 6, 2026
اشتہار

کیا بجٹ سے پہلے 28ویں آئینی ترمیم آنے کا امکان ہے؟ طارق فضل چوہدری نے بتا دیا

اشتہار

حیرت انگیز

اسلام آباد (17 مئی 2026): وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری کا کہنا ہے کہ بجٹ سے پہلے 28ویں آئینی ترمیم کا کوئی امکان نہیں ہے۔

اے آر وائی نیوز کے پروگرام ’سوال یہ ہے‘ میں طارق فضل چوہدری نے کہا کہ آئینی ترمیم کیلیے ایم این ایز کی حاضری یقینی بنانے کیلیے دو ہفتے پہلے ریکی شروع ہو جاتی ہے لیکن 28ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے ابھی تک ایسی کوئی حکمت عملی شروع نہیں ہوئی۔

طارق فضل چوہدری نے کہا کہ 28ویں آئینی ترمیم پر کام ضرور ہو رہا ہے، 26ویں آئینی ترمیم کا مکمل ایجنڈا پاس نہیں ہوا تھا جبکہ 27ویں آئینی ترمیم کے نامکمل ایجنڈے پر بات ہو رہی ہے، حکومت کے پاس سادہ اکثریت ہے لیکن آئینی ترمیم کیلیے دوتہائی اکثریت ضروری ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پیپلز پارٹی کا 28ویں آئینی ترمیم پر اہم بیان آگیا

وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ 27ویں آئینی ترمیم میں این ایف سی کے معاملات ضرور تھے، قرضوں کی ادائیگی اور دفاعی بجٹ کے امور صرف وفاق پر ہے، صوبوں سے گزارش کی جا رہی ہے کہ قرض ادائیگی اور دفاعی بجٹ میں اپنا حصہ بھی ڈالیں۔

ان کا کہنا تھا کہ نئے صوبے بننا کسی ایک پارٹی کا ایجنڈا نہیں ہے، حکومت اتحادیوں کی مشاورت سے ہی کسی حتمی نتیجے پر پہنچے گی۔

پروگرام میں طارق فضل چوہدری نے کہا کہ کوئی ایمرجنسی نہیں ہے 28ویں آئینی ترمیم کی فی الحال ٹائم لائن نہیں دی جا سکتی، پی پی پی اور ایم کیوایم بھی ہے جب سب تیار ہوں جائیں گے تو ہوگی، پی پی پی کو منانا باقی اتحادیوں سے ذرا مشکل ہوتا ہے۔

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں