اسلام آباد (12 فروری 2026): وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری کا کہنا ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کو علاج کیلیے باہر بھیجنا پڑا تو ضرور بھیجیں گے۔
طارق فضل چوہدری نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ عمران خان اگر الشفا اسپتال میں علاج کیلیے راضی ہیں تو ہمیں کوئی اعتراض نہیں، بانی پی ٹی آئی کی صحت حکومت کی ترجیح ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ عمران خان سے ہماری کوئی ذاتی دشمنی نہیں ہے، ان کا روزانہ کی بنیاد پر چیک اپ ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ’بانی پی ٹی آئی بینائی سے محروم ہو گئے‘
قبل ازیں، مشیر اطلاعات کے پی شفیع جان نے اے آر وائی نیوز کے پروگرام ’آف دی ریکارڈ‘ میں کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی صحت سے زیادہ ضروری کچھ نہیں، اگر بیرون ملک جانا پڑا تو جائیں گے۔
شفیع جان نے کہا کہ سلمان صدر نے عمران خان سے ملاقات کے بعد رپورٹ جمع کروائی، عدالت کے حکم پر ہی رپورٹ پبلک کی گئی، اس میں حکومت جھوٹی ثابت ہوگئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جس طرح علاج میں کوتاہی کی گئی یہ قتل کے مترادف ہے، ابھی تک عمران خان کو ذاتی معالج کی سہولت نہیں دی جا رہی، شوکت خانم کے ڈاکٹرز کو معائنہ کرنے دینا چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ محمود اچکزئی سے بھی عمران خان کی صحت سے متعلق غلط بیانی کی گئی، انہوں نے اکتوبر میں جیل سپرنٹنڈٹ کو اکتوبر میں شکایت کی تھی لہٰذا جیل سپرنٹنڈنٹ کا نام ای سی ایل میں ڈالا جائے۔
مشیر اطلاعات کے پی نے مزید کہا کہ عمران خان سے متعلق جو ڈاکٹرز مشورہ دیں گے وہ کریں گے، ان کی صحت اور زندگی سے ضروری کوئی چیز نہیں ہے۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


